تہران (رپورٹنگ آن لائن )ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے 37 برسوں کے دوران پہلی بار فضائیہ کے کمانڈوز سے ہونے والی سالانہ ملاقات میں شرکت نہیں کی۔
یہ ملاقات 1979 میں شاہی حکومت کے خاتمے سے قبل فضائیہ کے افسران کی آیت اللہ روح اللہ خمینی سے بیعت کی یاد میں ہر سال منعقد کی جاتی ہے۔عرب میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق اس سال آیت اللہ خامنہ ای کی جگہ ایران کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف جنرل عبدالرحیم موسوی نے فضائیہ کے کمانڈروز سے ملاقات کی۔رپورٹ کے مطابق خامنہ ای 1989 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد ہر سال اس تقریب میں شریک ہوتے رہے، حتی کہ کورونا کی وبا کے دوران بھی انہوں نے مذکورہ تقریب میں شرکت کی تھی۔
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی غیر حاضری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور امریکا نے خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا دی ہے۔بین الاقوامی مبصرین کے مطابق یہ قدم ممکنہ امریکی حملے کے خدشات یا قومی سلامتی کے معاملات کے باعث اٹھایا گیا ہے۔دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی امریکی حملے کی صورت میں پورا مشرقِ وسطی جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔









