لاہور(رپورٹنگ آن لائن) لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ تمام اہم سرکاری اداروں میں نجی شعبہ کی خاطر خواہ نمائندگی یقینی بنائے چاہے وہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو ہو، اوگرا، ارسا یا پھر برآمدات کے فروغ سے متعلق شعبہ جات ہوں۔ لاہور چیمبر کے صدر میاں نعمان کبیر نے کہا کہ حکومت کاروباری برادری کو تمام معاشی معاملات میں شامل کرے اور سرکاری اداروںمیں اس کی نمائندگی یقینی بنائے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا سٹیک ہولڈر ہونے کی حیثیت سے نہ اہم اداروں بلکہ پارلیمنٹ میں بھی نجی شعبہ کی نمائندگی ہونی چاہیے لیکن ایسا نہیں ہے اور اسے صرف ریونیو کا ذریعہ ہی سمجھا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی سٹیک ہولڈر کی شرکت کے بغیر صنعت و تجارت کے لیے سازگار پالیسیاں تشکیل دینا ممکن نہیں۔ میاں نعمان کبیر نے کہا کہ کاروباری برادری معیشت کے لیے انجن آف گروتھ بن سکتی ہے لیکن اس کے لیے حکومت کو اس کے ساتھ شراکت دار کے طور پر برتائو کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پٹرولیم پروڈکٹس کی قیمتیں تجارتی خسارے پر قابو پانے یا پھر ریاست کے بھاری غیر پیداواری اخراجات برداشت کرنے کا آپشن نہیں ہونا چاہیے، اسی طرح قیمتی وسائل، بالخصوص پانی کو چند لوگوں کے سیاسی مفادات پر قربان نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اوگرا پٹرولیم پروڈکٹس کی قیمتوں میں اضافے کی سمری پیش کرتا رہتا ہے جسے اکثر حکومت قبول کرلیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پٹرولیم پروڈکٹس کی قیمتوں میں بلاجواز اضافوں نے کاروباری لاگت بڑھادی ہے کیونکہ یہ اہم خام مال ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اوگرا میں نجی شعبہ کی پچاس فیصد نمائندگی ہو تو ایسے مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے۔
میاں نعمان کبیر نے کہا کہ حکومتی اداروں میں نجی شعبہ کی مناسب نمائندگی برآمدات کے فروغ، ٹیکس ٹو جی ڈی پی کے تناسب میں اصافہ، پبلک سیکٹر انٹرپرائزز کی استعداد کار بڑھانے، برین ڈرین ، ہنرمند افرادی قوت کی قلت اور کم صنعتی پیداوار جیسے مسائل پر قابو پانے میں مدد فراہم کرے گی۔ لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر میاں رحمن عزیز چن اور نائب صدر حارث عتیق نے کہا کہ بہت سے مسائل ہیں جن کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے، سب سے بڑا مسئلہ گروتھ ریٹ حاصل کرنا ہے، دوسرا برآمدات اور درآمدات کے درمیان بڑھتا فرق ہے۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ پاکستانی مصنوعات کو بین الاقوامی منڈی میں غیر مسابقتی بنارہا ہے لہذا اس جانب توجہ دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اہم سرکاری اداروں میں نجی شعبہ کی نمائندگی نہ صرف کاروبار کے لیے سازگار پالیسیاں یقینی بنائے گی بلکہ حکومت پر بوجھ بھی کم ہوگا۔









