قائمہ کمیٹی خزانہ 272

اپوزیشن ارکان کی مخالفت ، قائمہ کمیٹی خزانہ میں انسداد منی لانڈرنگ دوسرا ترمیمی بل 2020 کثرت رائے سے منظور

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے اپوزیشن ارکان کی مخالفت کے باوجود انسداد منی لانڈرنگ دوسرا ترمیمی بل 2020 کی کثرت رائے سے منظوری دے دی،

بل کے متن کے مطابق منی لانڈرنگ کا جرمانہ 50 لاکھ سے بڑھا کر ڈھائی کروڑ روپے مقرر کیا گیا ہے،متعلقہ قوانین پرعمل کیلئے نیشنل ایگزیکٹیو کمیٹی تشکیل دی جائے گی،مالی ادارے مشکوک ٹرانزیکشن کی اطلاع دینے کے پابند ہونگے،مالی ٹرانزیکشنز یا لین دین کا پانچ سالہ ریکارڈ مرتب کرنا ہوگا، منی لانڈرنگ، ٹیرف فنانسنگ سے متعلق ریگولیٹری اتھارٹی بھی قائم ہوگی۔پیر کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس فیض اللہ کموکا کی زیر صدارت ہوا،

اجلاس میں انسداد منی لانڈرنگ دوسرا ترمیمی بل 2020 پر غور کیا گیا، کمیٹی نے کثرت رائے سے انسداد منی لانڈرنگ دوسرا ترمیمی بل 2020 منظوری دی،بل کے متن کے مطابق منی لانڈرنگ کا جرمانہ 50 لاکھ سے بڑھا کر ڈھائی کروڑ روپے مقرر کیا گیا ہے، کمپنی یا ادارے کی صورت میں 10 کروڑ روپے جرمانہ ہوگا،متعلقہ قوانین پرعمل کیلئے نیشنل ایگزیکٹیو کمیٹی تشکیل دی جائے گی،مالی ادارے مشکوک ٹرانزیکشن کی اطلاع دینے کے پابند ہونگے،مالی ٹرانزیکشنز یا لین دین کا پانچ سالہ ریکارڈ مرتب کرنا ہوگا، ایگزیکٹیو کمیٹی ایف اے ٹی ایف شرائط پر عمل درآمد کیلئے سفارشات دے گی، منی لانڈرنگ، ٹیرف فنانسنگ سے متعلق ریگولیٹری اتھارٹی بھی قائم ہوگی، اتھارٹی منی لانڈرنگ کیخلاف تعاون نہ کرنے والوں کیخلاف کاروائی کرے گی۔

معلومات دینے پر متعلقہ عملے کیخلاف سول، کریمنل، یا انضباطی کاروائی نہیں ہوگی، منی لانڈرنگ یا ٹیرر فنانسنگ میں ملوث افراد سے معلومات شیئر کرنا ممنوع ہوگا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ بل پر گزشتہ اجلاس میں اعتراضات تھے جس کی وجہ آج اجلاس بلایا گیا، سید نوید قمر نے کہاکہ بل پر ہمارے اعتراض ہیں اور گزشتہ اجلاس اس پر تفصیلی گفتگو ہوئی، ہماری کچھ سفارشات نہیں مانی گئیں اور کچھ مانی گئیں، نیب کو انسداد منی لانڈرنگ بل میں شامل کرنا درست نہیں، کئی چیزوں پر اعتراض ہے کہ لیکن ہمارا سب سے بڑا اعتراض نیب کی شمولیت ہے، سزا کو بڑھانے کیلئے طریقہ کار کا تعین ہونا چاہیے،وزارت خزانہ کے ڈی جی ایف ایم یو نے بتایا کہ نیب کئی جرائم میں دیگر ایجنسیوں کے ساتھ کام کرتا ہے،

نیب کو اس وقت بل سے نکالنا مشکل ہوگا، اگر نیب کا ادارہ نہیں رہتا تو ترمیم کے ذریعے نیب کو اس بل سے نکالا جاسکتا ہے،عائشہ غوث پاشا نے کہا کہ اس بل سے خوف و ہراس پھیلے گا جس سے مسائل بڑھیں گے،قیصر احمد شیخ نے کہاکہ فیٹف کی یہ شرائط نہیں جو اس بل کے ذریعے منظور کروائی جارہی ہیں، اس بل کی منظوری میں جلدی نہیں ہونی چاہیے کاروباری افراد کے ساتھ گفتگو ہونی چاہیے،ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہاکہہم نے یہ سوچا تھا کہ اس بل پر گفتگو ہوگی حکومتی اراکین کے بھی اعتراضات ہیں، 7گھنٹے اس پر گفتگو ہوئی ہے،

چئیرمین کمیٹی نے کہا کہ اعتراضات کو اجلاس کی کاروائی کا حصہ بنایا جائے گا،عائشہ غوث پاشا نے کہاکہ7 گھنٹے کی بات کررہے ہیں 7 ماہ تک حکومت اس بل کو لیکر نہیں آئے، عالمی مروجہ قوانین مانگے گئے تھے وہ بھی فراہم نہیں کئے گئے، پارلیمان کی اہمیت و وقعت کا خیال حکومت کو نہیں ہے، حنا ربانی کھر نے کہاکہ اس قسم کے کالے قوانین کو نافذ کیا جائے گا تو مسائل بڑھیں گے، حکومت پکڑ دھکڑ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے،عائشہ غوث پاشا نے کہاکہانٹرنیشنل پریکٹسز میں ایسا ہر گز نہیں ہوتا، اس بل کے بعد کوئی سرمایہ کاری نہیں آئیگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں