لاہور (رپورٹنگ آن لائن)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ 2018 اور 2024 کے انتخابات میں طاقتور حلقوں کی مداخلت سے حکومتیں بنیں،حکمران جان لیں کہ فارم سنتالیس سے اقتدار پر براجمان ہوکر عوام کے دل نہیں جیتے جاسکتے، جماعت اسلامی ملک میں بہتری کے لیے جدوجہد کو مزید تیز کرے گی، تحریک تحفظ آئین پاکستان سے آئین کی بالادستی کی معاملہ پر تعاون کریں گے ، کسی کو کندھا فراہم کیا جائے گا نہ اتحاد کا حصہ بنیں گے۔
جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کے منصورہ میں ہونے والے اجلاس سے اختتامی خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ بلوچستان کے حالات انتہائی پریشان کن ہیں۔ حکمران ایسی پالیسیاں تشکیل دیں جن سے دہشت گردی کے کارخانوں میں اضافہ کی بجائے کمی ہو۔ مجلس شوریٰ اجلاس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، امن عامہ، معیشت ، عالمی حالات اور دیگر داخلی امور سے متعلق معاملات زیربحث آئے۔ شرکاء شوریٰ نے ملک کی خارجہ پالیسی، مسئلہ فلسطین و کشمیر پر گفتگو کی۔ مجلس شوریٰ میں تنظیمی معاملات ، بدل دو نظام تحریک پر بھی گفتگو ہوئی۔
مجلس شوریٰ نے داخلی اور عالمی معاملات پر مختلف قراردادوں کی بھی متفقہ منظوری دی۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ چاروں صوبوں کے عوام مسائل کی چکی میں پس رہے ہیں، معیشت بہتر ہوئی ہے اور نہ ہی امن قائم ہوا ہے۔ بلوچستان اور کے پی کے عوام دہشت گردی کے نرغے میں ہیں، سندھ میں ڈاکو راج ہے ، کراچی مسائل کا گڑھ بن گیا ہے ، پنجاب کی صورتحال بھی سب کے سامنے ہے ، صوبہ پولیس سٹیٹ بن گیا ہے، وزیراعلیٰ پنجاب کی بہتری کے دعوے اشتہارات کی حد تک ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ پنجاب میں گورننس بہتر ہے تو سکولوں کو کیوں فروخت کیا جارہا ہے، پنجاب کا کسان سب سے زیادہ پریشان ہے کیوں ہے۔؟امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ معاشرے میں تبدیلی کے لیے ہمیں اپنی کوششیں تیز کرنا ہونگی، ہمیں عام آدمی کی توجہ کا مرکز بننا ہوگا، جو مسائل کے حل کے لئے آپ کی طرف دیکھے۔ انہوں نے جماعت اسلامی کے قائدین و کارکنان کو پیغام دیا کہ وہ عوامی مسائل کے حل کے لیے کوششیں کریں۔ حافظ نعیم الرحمن نے عوامی کمیٹیوں کی تشکیل کو سراہا اور ان میں مزید اضافہ کرنے کا اعلان کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی انتخابی اتحاد کی سیاست نہیں کرے گی، ماضی کے تجربات نے ثابت کیا ہے کہ جماعت اسلامی کو اتحادی سیاست کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ ہم زمینی حقائق کو مدنظر رکھ اپنی پالیسیاں بنائیں گے۔ کسی کے دباؤ میں کبھی نہیں آئیں گے۔ ہم مسلکی الجھنوں کا شکار ہونگے نہ فروعیات میں پڑیں گے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ نوجوانوں اور خواتین کے حقوق کے لیے کاوشیں جاری رہیں گی۔ انہوں نے معاشرے میں منشیات کے پھیلتے زہر پر تشویش کا اظہار کیا اور کارکنوں کو ہدایات دیں کہ اس ناسور کو ختم کرنے کے لئے اپنی کوششیں تیز کردیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے اہل ِ فلسطین و کشمیر کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کے عہد کا اعادہ کیا اور حکمرانوں کو متنبہ کیا کہ وہ عوامی خواہشات کے بر خلاف اقدامات سے گریز کریں۔









