جوڈیشل الاؤنس 44

انسداد دہشتگردی عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی کی 2 مقدمات میں ضمانت منظور کر لی

اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن)انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد نے ایمان مزاری اور ہادی علی کی2 مقدمات میں ضمانتیں منظور کرتے ہوئے 5 ، 5 ہزار روپے کے مچلکے جمع کروانے کا حکم جاری کر دیا تاہم متنازعہ ٹویٹس کیس میں سزا ہونے کے باعث رہائی ممکن نہیں۔تفصیلات کے مطابق انسداددہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے درخواستوں پر سماعت کی، ایمان مزاری اورہادی علی چٹھہ کی جانب سے ایمل خان مندوخیل ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر احتجاج کیس میں مدعی مقدمہ کے بیان پر ضمانت کی درخواست منظور کی گئی۔عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو متعلقہ مقدمات میں رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ دونوں کو متنازہ ٹویٹس کیس میں سزا سنائی جا چکی ہے جس سے رہائی ممکن نہیں ہے۔ایمل ولی خان مندوخیل نے کہا کہ دونوں ملزمان کی جانب سے کوئی لڑائی جھگڑا نہیں کیا گیا تھا، ہائیکورٹ کے باہر جج طارق جہانگیری کیلئے آواز بلند کررہے تھے،

اپریس کلب احتجاج کے حوالے سے بے بنیاد ایف آئی آر درج کی گئی، ہم مظلوموں کا ساتھ دے رہے تھے لاپتہ افراد کے کیسز لڑتے ہیں، لاپتہ افراد کے کیسز لڑنے کی وجہ سے بے بنیاد مقدمہ بنایا گیا۔پراسیکیوشن کی جانب سے ایمان مزاری اور ہادی علی کی ضمانت کی مخالفت کی گئی۔ عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ سنایا۔ ایمان مزاری اور ہادی علی کیخلاف تھانہ سیکرٹریٹ اور کوہسار میں مقدمات درج ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں