شہباز اکمل جندران۔۔۔
لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس شجاعت علی خان کی عدالت میں انسانی نعشوں کی بے حرمتی کے خلاف رٹ پٹیشن کی سماعت ہوئی۔
پٹیشن ایڈووکیٹ شہباز اکمل جندران نے ایڈووکیٹ ندیم سرور کے توسط سےفائل کی۔

عدالت میں صوبائی سیکرٹری صحت بیرسٹر نبیل ظفر، وائس چانسلر یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز پروفیسر جاوید اکرم، ایڈیشنل آئی جی آپریشنز لاہور، ڈی آئی جی آپریشنز لاہور اور دیگرپیشن ہوئے۔
عدالت نے طلبی کے باوجود چیف سیکرٹری پنجاب اور سیکرٹری داخلہ کے حاضر نہ ہونے پر ناراضگی کا اظہار کیا۔
عدالت کے روبرو سیکرٹری صحت نے بتایا کہ میڈیکل انسٹیٹیوشنز کو تعلیمی مقاصد کے لئے انسانی نعشوں کی فراہمی کے حوالے سے قانونی ڈرافٹ کیا جارہا ہے۔کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے۔

عدالت نے کمیٹی میں تمام سٹیک ہولڈرز کو شامل کرنے اور ایک ہفتے میں کمیٹی کا پہلا اجلاس منعقد کرنے کی ہدایات جاری کردیں۔
عدالت پٹیشنر ایڈووکیٹ شہباز اکمل جندران کو اہم معاملہ سامنے لانے پر بھری عدالت میں خراج تحسین پیش کیا اور اس معاملے میں پنجاب انفارمیشن کمیشن اور اس کے ممبران کے کردار کو بھی سراہا

درخواست گزار نے عدالت کےروبرو موقف اختیار کیا تھا کہ لاہور سمیت صوبے میں انسانی نعشیں بکنے لگیں ہیں۔جبکہ انسانی نعشوں کی سپلائی اور خریدوفروخت میں سرکاری ادارے بھی ملوث پائے گئے ہیں۔
درخواست گزار کاکہنا تھا کہ نعشوں کے لین دین میں ملوث سرکاری ادارے ایک دوسرے پر تحریری الزام عائد کرنے لگے ہیں۔

درخواست گزار کے مطابق صوبے میں ایم بی بی ایس کے پہلے اور دوسرے سال کے طلبہ کے لئے انسانی نعشوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ایم بی بی ایس کے طلبہ انسانی نعشوں پر پریکٹیکلز اور تجربات کرتے ہیں۔
اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی لاہور کی ایچ او ڈی اناٹومی کا کہنا ہے کہ طلبہ کے اناٹومی ڈیپارٹمنٹ کو انسانی نعشوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ جو کہ پولیس مہیا کرتی ہے اور گزشتہ دو برسوں میں 15 انسانی نعشیں پولیس نے فراہم کی گئی ہیں۔
درخواست گزار کا موقف تھا کہ دو برسوں میں چار نعشیں پرائیویٹ میڈیکل کالجوں کو فراہم کی گئی ہیں جبکہ لاہور پولیس نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے شعبہ انٹومی کینسربراہ کے اس دعوے کو جھٹلاتے ہوئے تحریری طورپر موقف اختیار کیا یے کہ انسانی نعشوں کو میڈیکل کالجوں یا یونیورسیٹیوں کے حوالے کرنے کا قانون نہیں ہے۔اور نہ ہی لاہور پولیس نے گزشتہ دو برسوں کے دوران کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی سمیت کسی بھی سرکاری یاپرائیویٹ یونیورسٹی اور میڈیکل کالج کو انسانی نعش فراہم کی ہے۔
درخواست گزار کا کہنا تھا کہ علامہ اقبال میڈیکل کالج لاہور کے ایڈمنسٹریٹر کا کہنا ہے کہ پولیس اور مینٹل ہسپتال کا میڈیکل سپرنٹنڈنٹ انسانی نعشیں فراہم کرتے ہیں۔
تاہم ایم ایس مینٹل ہسپتال لاہور کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران علامہ اقبال میڈیکل کالج سمیت کسی بھی کالج یا یونیورسٹی کو انسانی نعش فراہم نہیں کی۔
انسانی نعشوں کی فراہمی کے متعلق سرکاری اداروں کے تحریری موقف نے ابہام پیدا کر دیا۔اورانسانی نعشوں کی خریدو فروخت کا گھناؤنا کاروبار صوبے میں چمکنے لگا ہے
جبکہ گھناونے کاروبار میں ملوث افراد ابہام سے فائدہ اٹھانے لگے ہیں۔اور صوبے میں انسانی نعشوں کا کاروبار عام ہوگیا۔
زرائع کے مطابق صوبے میں پرائیویٹ میڈیکل کالج پانچ لاکھ روپے تک انسانی نعشیں خریدنے لگے۔
اور سب سے زیادہ فروخت لاوارث اور ناقابل شناخت انسانی نعشوں کی ہوتی ہے









