اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اور این سی او سی کے سربراہ اسد عمر نے انتہا پسند ہندووں کا تنہا سامنا کرنے والی بہادر بچی کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کے حالات دیکھ کر قائد اعظم‘ ان کے ساتھیوں اور اپنے بزرگوں کی،جنہوں نے ہمیں آزادی میں زندگی گزارنے کے لئے قربانی دی، کی قدر میں اور اضافہ ہو جاتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اسد عمر بھی بھارتی ریاست کرناٹک میں انتہا پسندوں کا تنہا سامنا کرنے بچی کی بہادری سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اور این سی او سی کے سربراہ اسد عمر نے سوشل میڈیا پر جاری اپنی ٹوئٹ میں کہاکہ سلام اس بچی کی بہادری پر۔
وفاقی وزیر کا مزید کہنا ہےکہ بھارت کے حالات دیکھ کر قائد اعظم، ان کے ساتھیوں اور اپنے بزرگوں کی،جنہوں نے ہمیں آزادی میں زندگی گزارنے کے لئے قربانی دی، کی قدر میں اور اضافہ ہو جاتا ہے۔بھارتی ریاست کرناٹک میں اپنے کالج کے باہر ہراساں کیے جانے پر ہجوم کے سامنے ڈٹ جانے اور نعرے لگانے والی مسلمان لڑکی مسکان سے اظہار یکجہتی کے لیے پاکستان اور خود بھارت میں اللہ اکبر ٹرینڈ کرنے لگا۔
کرناٹک کے علاقے اوڈوپی میں تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کے خلاف مسلم طالبات کا احتجاج جاری ہے اور یہ سلسلہ اتنا بڑھ چکا ہے کہ آج ریاست میں تمام اسکول اور کالج تین روز کے لیے بند کردیے گئے ہیں۔کرناٹک کے وزیراعلیٰ نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں مقامی افراد، طلبا، اساتذہ اور تعلیمی اداروں کی انتظامیہ سے امن و امان بحال رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے تمام ہائی اسکولوں اور کالجوں کی بندش کا اعلان کیا۔
بھارتی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے مسکان کا کہنا تھا کہ وہ اپنا اسائنمنٹ جمع کرانے کے لیے کالج گئی تھیں لیکن وہاں موجود ہجوم نے انہیں برقع میں دیکھ کر شورشرابا کیا اور نعرے لگائے جس کے جواب میں انہوں نے بلند آواز میں اللہ اکبر پکارنا شروع کر دیا۔









