واشنگٹن (رپورٹنگ آن لائن)فرانس، برطانیہ، اٹلی، آسٹریلیا، سنگاپور، جنوبی افریقہ اور بولیویا سمیت کئی ممالک نے واضح کیا کہ امریکہ کے نام نہاد ” ریسیپروکل ٹیرف ” عالمی تجارتی نظام کو نقصان پہنچا رہے ہیں، اور انہوں نے اس کے خلاف مناسب اقدامات اٹھانے کا اعلان کیا۔
فرانس کے وزیر صنعت و توانائی مارک فیوراچی نے امریکہ کی نئی محصولاتی پالیسی کے خلاف مناسب لیکن مضبوط ردعمل کی اپیل کی۔ فیوراچی نے کہا کہ یورپی یونین اگلے ہفتے اس معاملے پر تبادلہ خیال کرے گی۔ اسی دن، فرانس کے وزیر برائے بیرونی تجارت لارینٹ سینٹ مارٹن نے کہا کہ امریکہ کی محصولاتی پالیسی آخرکار اس کی اپنی معاشی ترقی کو نقصان پہنچائے گی۔
برطانیہ کے وزیر اعظم سر کئیر اسٹارمر نے 4 تاریخ کو اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی اور آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیسی سے الگ الگ ٹیلیفونک گفتگو کی۔ برطانوی حکومت کے بیان کے مطابق، تینوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مکمل تجارتی جنگ انتہائی تباہ کن ہوگی اور کسی کے مفاد میں نہیں ہوگی۔
سنگاپور کے وزیر اعظم لارنس وونگ نے کہا کہ امریکہ کی حالیہ محصولاتی پالیسی عالمی تجارتی تنظیم کے فریم ورک کی مکمل نفی ہے۔ سنگاپور چوکنا رہے گا اور اپنی صلاحیتوں کو بڑھاتے ہوئے ہم خیال ممالک کے ساتھ شراکت داری کے نیٹ ورک کو مضبوط کرے گا۔
جنوبی افریقہ کے وزیر تجارت و صنعت پارکس ٹاؤ نے کہا کہ امریکہ کا یہ اقدام عالمی تجارتی تنظیم کے نظام کو نظر انداز کرنا ہے جو کثیر الجہتی تجارتی نظام کو شدید طور پر متاثر کرے گا۔بولیویا کے خارجہ امور کے محکمہ نے امریکہ کی نئی محصولاتی پالیسی کے خلاف اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کثیر الجہتی کی بنیاد پر عالمی سطح پر امریکہ کے خلاف اجتماعی ردعمل کی اپیل کی۔