بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) امریکی تجارتی نمائندے کے دفترنے اعلان کیا ہے کہ وہ “جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی نہ لگانے” کی بنیاد پر چین سمیت 60 معیشتوں کے خلاف سیکشن 301 کی تحقیقات کا آغاز کر رہا ہے۔
چین کی وزارت تجارت کے ترجمان نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ چین نے ہمیشہ جبری مشقت کی مخالفت کی ہے بلکہ چین انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے بانی ارکان میں سے ایک ہے۔ امریکہ نے آج تک 1930 کے جبری مشقت کے کنونشن کی توثیق نہیں کی ہے، لیکن طویل عرصے سے “جبری مشقت” کے معاملے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتا رہا ہے۔ امریکہ کا چین اور متعلقہ معیشتوں کے خلاف سیکشن 301 کی تحقیقات کرنا مثالی تحفظ پسندانہ عمل ہے، جسے عالمی تجارتی تنظیم بہت پہلے ہی ڈبلیو ٹی او کے قوانین کی خلاف ورزی قرار دے چکی تھی۔ اس دفعہ امریکہ نے ایک بار پھر سیکشن 301 کی تحقیقات کا غلط استعمال کرکے اپنے ملکی قانون کو بین الاقوامی قوانین سے بالاتر رکھا ہے اور بین الاقوامی اقتصادی و تجارتی نظام کو سنگین طور پر متاثر کیا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ چین اور امریکہ کے مابین اس وقت پیرس میں تجارتی مذاکرات کا نیا دور جاری ہے اور چین نے اس معاملے پر امریکی فریق سے باضابطہ احتجاج کیا ہے۔ ہم امریکہ پر زور دیتے ہیں کہ وہ فوری طور پر اپنے غلط طرز عمل کو درست کرے اور بات چیت اور مشاورت کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کرے۔ چین اپنے جائز حقوق و مفادات کے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔









