امیگریشن 26

امریکی امیگریشن نفاذ کی کارروائی میں ایک فرد ہلاک

منی ایپولس (رپورٹنگ آن لائن) منی ایپولس شہر نے امریکی امیگریشن نفاذ کی کارروائی میں ایک فرد کی ہلاکت کے معاملے پر پریس کانفرنس کا انعقاد کیا۔ منی ایپولس کے میئر جیکب فرے اور مینیسوٹا ریاست کے بعض حکام نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس واقعے کی کھلی اور شفاف تحقیقات کی جائیں اور ریاستی اداروں کو بھی تفتیشی عمل میں شامل ہونے کی اجازت دی جائے۔

وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کی گئی امیگریشن نفاذ کی کارروائی کے نتیجے میں ایک فرد کی ہلاکت کے معاملے پر وفاقی حکام اور مقامی حکومت کے مؤقف میں واضح اختلاف پایا جاتا ہے۔ وفاقی حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والی خاتون ایک “پرتشدد فسادی” تھی اور یہ کہ قانون نافذ کرنے والے اہلکار نے”اپنے دفاع میں” فائرنگ کی۔

منی ایپولس کے میئر جیکب فرے نے 9 جنوری کی پریس کانفرنس میں ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ یہ واقعہ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی جانب سے اختیارات کے بے جا استعمال کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت کی جانب سے مختلف شہروں میں وفاقی اہلکار تعینات کیے جانے کے اقدام پر بھی شدید اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات جرائم میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آٹھ جنوری کی شام تک، وفاقی قانون نافذ کرنے والے اہلکار کی جانب سے ایک خاتون کو گولی مار کر ہلاک کرنے کے علاوہ، اس شہر میں اس سال ابھی تک کوئی فائرنگ کا واقعہ پیش نہیں آیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں