محمد جاوید قصوری 48

امریکہ اور اسرائیل نے مشرقی وسطیٰ میں آگ بھڑکا دی ہے ‘ جاوید قصوری

لاہور (رپورٹنگ آن لائن)امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد پوری مسلم دنیا میں شدید غم و غصہ ، بے چینی اور اضطراب کی کیفیت ہے، یہ امتِ مسلمہ کے لیے ایک بڑا نقصان ہے،خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات عالمی معیشت پر بھی نمایاں ہو رہے ہیں، اسٹاک مارکیٹس میں شدید مندی جا رہی ہے، سرمایہ کاروں کے اربوں ڈالر ڈوب چکے ہیں اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نے عالمی اقتصادی نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے، مشرقِ وسطیٰ میں جنگی کیفیت کے باعث بے یقینی بڑھ رہی ہے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے مختلف پروگرامات سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں نے خطے میں آگ کو مزید ہوا دی ہے۔ طاقت کے استعمال اور دھمکی آمیز بیانات سے امن قائم نہیں ہوتا بلکہ تنازعات مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے معاملے کو بنیاد بنا کر خطے میں وسیع تر کشیدگی پیدا کی جا رہی ہے، جس کے بھیانک نتائج پوری دنیا کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔امیر جماعت اسلامی پنجاب نے واضح کیا کہ پاکستان ایک خودمختار ریاست ہے اور اسے کسی صورت بیرونی دباؤ یا مداخلت کے تحت نہیں لایا جا سکتا۔ پاکستانی عوام اپنے ملک کی آزادی، نظریاتی سرحدوں اور خودداری کے تحفظ کے لیے متحد ہیں اور ملک کو کسی کی کالونی نہیں بننے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت دفاعی مقاصد کے لیے ہے اور یہ قومی سلامتی کی علامت ہے، جس کی وجہ سے دشمن قوتیں اسے آنکھوں میں کھٹکتا ہوا دیکھتی ہیں۔

محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ پاکستان میں مہنگائی ڈیڑھ سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ جانا حکومتی معاشی پالیسیوں کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔ رمضان المبارک جیسے بابرکت مہینے میں پٹرولیم مصنوعات اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے نہ صرف ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ ہوا بلکہ سبزیوں، پھلوں، آٹے، چینی، گھی اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔ متوسط اور دیہاڑی دار طبقہ شدید پریشانی کا شکار ہے اور سفید پوش گھرانوں کے لیے سحری و افطاری کا انتظام کرنا بھی مشکل ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ ناجائز منافع خور اور ذخیرہ اندوز رمضان المبارک میں کھلے عام عوام کا استحصال کر رہے ہیں جبکہ حکومتی ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ پرائس کنٹرول کمیٹیاں فعال نظر نہیں آ رہیں اور سرکاری نرخنامے صرف کاغذی کارروائی تک محدود ہو چکے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں