حافظ نعیم الرحمن 15

امریکہ، اسرائیل کا ایران پر حملہ کھلی دہشت گردی، خطہ جنگ کی لپیٹ میں دھکیلا جا رہا ہے’حافظ نعیم الرحمن

لاہور (رپورٹنگ آن لائن) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کا مل کر ایران پر حملہ کھلی دہشت گردی ہیاور اس جارحیت کے ذریعے پورے مشرقِ وسطی کو جنگ میں جھونکا جا رہا ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدہ تعلقات کا باقاعدہ جنگ کی طرف بڑھنا انتہائی تشویش ناک ہے۔

ہمسایہ اسلامی ممالک کے درمیان یہ صورتحال دونوں طرف کے عوام کے لیے نہایت تکلیف دہ ہے۔ ایران کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ ایک مرتبہ پھر امریکہ نے مذاکرات کو دھوکے کے طور پر استعمال کیا اور ثابت کر دیا کہ اس کی پالیسی جنگ، خونریزی اور تباہی کے سوا کچھ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا نام نہاد بورڈ آف پیس درحقیقت بورڈ آف وار ہے جو دنیا کو امن نہیں بلکہ مسلسل جنگ کی طرف دھکیل رہا ہے۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل نے اپنے شیطانی مقاصد کے حصول کے لیے پورے مشرق وسطی کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے، جس کے نتائج انتہائی تباہ کن ثابت ہوں گے۔

انہوں نے مسلم حکمرانوں پر زور دیا کہ وہ خوابِ غفلت سے بیدار ہوں اور اپنی آنکھیں کھولیں، ورنہ تاریخ انہیں معاف نہیں کرے گی۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ گزشتہ 25 برسوں کے دوران امریکی سرپرستی میں کئی مستحکم مسلم ممالک کو جارحیت کا نشانہ بنایا گیا، جن میں عراق، افغانستان، لیبیا اور شام شامل ہیں، جہاں ریاستی ڈھانچے کو تباہ کرکے انتشار، خانہ جنگی اور بدامنی پھیلائی گئی۔ انہوں نے پاکستانی حکمرانوں کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سبق ہمیشہ یاد رکھیں کہ امریکہ کسی کا دوست نہیں بلکہ وہ صرف اپنے مفادات کے لیے ممالک اور قوموں کو استعمال کرتا ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے مطالبہ کیا کہ پاکستان آزاد، خودمختار اور جرات مندانہ خارجہ پالیسی اپنائے اور امت مسلمہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے واضح مقف اختیار کرے۔

پاک افغان صورتحال پر بات کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی اور دفاع 25کروڑ پاکستانیوں کی ترجیح اول ہے۔ پاک افغان کشیدگی ایک ایسے وقت شدت اختیار کررہی ہے جب تل ابیب میں بھارت اور اسرائیل اکٹھے ہیں اور یہ اتحاد پورے عالم اسلام کے لیے مہلک ہے۔ طالبان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بھارت ان کا دوست نہیں ہوسکتا۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان یہ کشیدگی کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ امریکہ نے غزہ میں کیے گئے جنگی جرائم سے توجہ ہٹانے کے لیے جنگ کا مرکز تبدیل کیا ہے۔ افغان قیادت کوئی ایسا راستہ اختیار نہ کرے جس سے وہ عالم اسلام سے کٹ جائیں اور اسلام دشمن قوتوں کو اس کا فائدہ ہو۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت پاکستان کی جانب سے اس اہم اور نازک موقع پر قومی مشاورت سے گریز ناقابل فہم ہے، فوری طور پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے اور تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے۔انہوں نے زوردیا کہ اس صورت حال میں ضروری ہے کہ عالم اسلام کے جید علما ماضی کی طرح سامنے آئیں اور پاکستان و افغانستان کے درمیان جنگ کی آگ کو ٹھنڈا کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ چین ، ترکی ، قطر اور سعودی عرب گزشتہ عرصہ میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش کو ترک نہ کریں اور اس موقع پر از سر نو اپنا کردار ادا کریں۔ امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ پاک سعودی عرب دفاعی معاہدہ اسرائیل کے لیے ناقابل برداشت ہے۔ عالم اسلام کے درمیان اتحاد و اتفاق کی ہر کوشش کو زائل کرنا یہود و ہنود کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔
لاہور () امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کا مل کر ایران پر حملہ کھلی دہشت گردی ہیاور اس جارحیت کے ذریعے پورے مشرقِ وسطی کو جنگ میں جھونکا جا رہا ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدہ تعلقات کا باقاعدہ جنگ کی طرف بڑھنا انتہائی تشویش ناک ہے۔

ہمسایہ اسلامی ممالک کے درمیان یہ صورتحال دونوں طرف کے عوام کے لیے نہایت تکلیف دہ ہے۔ ایران کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ ایک مرتبہ پھر امریکہ نے مذاکرات کو دھوکے کے طور پر استعمال کیا اور ثابت کر دیا کہ اس کی پالیسی جنگ، خونریزی اور تباہی کے سوا کچھ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا نام نہاد بورڈ آف پیس درحقیقت بورڈ آف وار ہے جو دنیا کو امن نہیں بلکہ مسلسل جنگ کی طرف دھکیل رہا ہے۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل نے اپنے شیطانی مقاصد کے حصول کے لیے پورے مشرق وسطی کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے، جس کے نتائج انتہائی تباہ کن ثابت ہوں گے۔

انہوں نے مسلم حکمرانوں پر زور دیا کہ وہ خوابِ غفلت سے بیدار ہوں اور اپنی آنکھیں کھولیں، ورنہ تاریخ انہیں معاف نہیں کرے گی۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ گزشتہ 25 برسوں کے دوران امریکی سرپرستی میں کئی مستحکم مسلم ممالک کو جارحیت کا نشانہ بنایا گیا، جن میں عراق، افغانستان، لیبیا اور شام شامل ہیں، جہاں ریاستی ڈھانچے کو تباہ کرکے انتشار، خانہ جنگی اور بدامنی پھیلائی گئی۔ انہوں نے پاکستانی حکمرانوں کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سبق ہمیشہ یاد رکھیں کہ امریکہ کسی کا دوست نہیں بلکہ وہ صرف اپنے مفادات کے لیے ممالک اور قوموں کو استعمال کرتا ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے مطالبہ کیا کہ پاکستان آزاد، خودمختار اور جرات مندانہ خارجہ پالیسی اپنائے اور امت مسلمہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے واضح مقف اختیار کرے۔

پاک افغان صورتحال پر بات کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی اور دفاع 25کروڑ پاکستانیوں کی ترجیح اول ہے۔ پاک افغان کشیدگی ایک ایسے وقت شدت اختیار کررہی ہے جب تل ابیب میں بھارت اور اسرائیل اکٹھے ہیں اور یہ اتحاد پورے عالم اسلام کے لیے مہلک ہے۔ طالبان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بھارت ان کا دوست نہیں ہوسکتا۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان یہ کشیدگی کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ امریکہ نے غزہ میں کیے گئے جنگی جرائم سے توجہ ہٹانے کے لیے جنگ کا مرکز تبدیل کیا ہے۔ افغان قیادت کوئی ایسا راستہ اختیار نہ کرے جس سے وہ عالم اسلام سے کٹ جائیں اور اسلام دشمن قوتوں کو اس کا فائدہ ہو۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت پاکستان کی جانب سے اس اہم اور نازک موقع پر قومی مشاورت سے گریز ناقابل فہم ہے، فوری طور پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے اور تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے۔انہوں نے زوردیا کہ اس صورت حال میں ضروری ہے کہ عالم اسلام کے جید علما ماضی کی طرح سامنے آئیں اور پاکستان و افغانستان کے درمیان جنگ کی آگ کو ٹھنڈا کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ چین ، ترکی ، قطر اور سعودی عرب گزشتہ عرصہ میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش کو ترک نہ کریں اور اس موقع پر از سر نو اپنا کردار ادا کریں۔ امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ پاک سعودی عرب دفاعی معاہدہ اسرائیل کے لیے ناقابل برداشت ہے۔ عالم اسلام کے درمیان اتحاد و اتفاق کی ہر کوشش کو زائل کرنا یہود و ہنود کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں