شہبازاکمل جندران۔۔۔
لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس انوار الحق پنوں نے صوبے میں الیکٹرانک کوڑے کرکٹ(E-WASTE)کی تلفی کے حوالے سے قانون موجود نہ ہونے پر جواب طلب کرلیا ہے۔

شہری مشکور حسین نے ایڈووکیٹ شہباز اکمل جندران اور ایڈووکیٹ ندیم سرورکی وساطت سے دائر کردہ درخواست میں موقف اختیار کیا تھا۔

ای ویسٹ ایک حقیقت ہے لوگ اپنے کمپیوٹر، موبائل فون، لیپ ٹاپ، ٹی وی سیٹ، ساونڈ سسٹم، فوٹو کاپیر مشینیں، فیکس مشینیں، پرنٹرز، سکینرز اور دیگر پرانی الیکٹرانک آئٹمز کو نئی آئٹمز کےساتھ تبدیل کررہے ہیں۔

لیکن بدقسمتی سے صوبے میں متروکہ الیکٹرانک اشیا یا ای ویسٹ کی ڈسپوزل کے لئے کسی قسم کا کوئی قانون ،گائڈ لائنز یا میکنزم موجود نہیں ہے۔

جبکہ متروکہ الیکٹرانک کوڑے کرکٹ میں پائے جانے والے اجزا، مرکری، کیڈیم، لیڈ، پولی وینائل، بیٹریاں، سرکٹ بورڈ اور دیگر کمپوننٹ کینسر کا باعث بننے کے ساتھ ساتھ انسانی نروس سسٹم کو نقصان پہنچانے ہیں۔


عدالت نے صوبائی حکومت سے 22 اپریل کو جواب طلب کرلیا ہے۔






