وزیراعظم عمران خان 228

افغانستان کوانسانی بحران سے بچانے کیلئے سب متفق ، حالات خراب ہوئے تو امریکا کو مشکلات ہونگی،وزیراعظم

اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن ) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہماری معیشت درست سمت میں ہے، چین نے اعتماد کا ظہارکیا، دورہ چین انتہائی اہمیت کاحامل تھا، دورے کے بعد چین کےساتھ تعلقات مزید مضبوط ہوئے، چین نے کورونا سے نمٹنے کی پاکستانی حکمت عملی کی تعریف کی،

سندھ اور پنجاب میں گندم کی الگ الگ قیمتیں ہیں، 18 ویں ترمیم کے بعد بہت سے معاملات میں فیصلے نہیں کرسکتے، پتہ ہی نہیں سندھ میں گندم کوکہاں رکھاگیا، چین میں ایک فیصلہ ہوتا ہے اورسب عمل کرتے ہیں،افغانستان کوانسانی بحران سے بچانے کیلئے سب متفق ہیں، حالات خراب ہوئے تو امریکا کو بھی مشکلات ہونگی، امریکا کے علاوہ سب سمجھتے ہیں افغانستان کے اکاونٹ بحال کیے جائیں،امریکا اپنی اندرونی مجبوریوں کی وجہ سے پھنسا ہوا ہے،افغانستان پر چین اور پاکستان میں مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے، دنیا بڑی تیزی سے تبدیل ہورہی ہے۔

سابق سفیروں اور صحافیو ں کے ساتھ خصوصی نشست میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہاکہ دورہ چین انتہائی اہمیت کاحامل تھا، ہماری معیشت کی سمت درست،چینی قیادت نے اعتماد کا اظہارکیا،دورہ چین کے بعد ہمارے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے،دنیا کا نقشہ بہت تیزی سے بدلتا جارہاہے ، دنیا میں تبدیلیوں کے حوالے سے دورہ چین بہت اہم تھا، چین نے ہمارے کویڈ سے نمٹنے کا بہت غور سے مشاہدہ کیا ۔

عمران خان کا کہناتھا کہ 2019 کے بعد کورونا آنے سے چین بند ہو گیا تھا ، دو سال بعد چین کے صدر سے ملاقات ہوئی ہے ، کئی ایسی چیزیں تھیں جو چین سے طے کرنی تھیں، چین کے صدر نے پاکستان آنا تھا جو ملتوی ہوا ، چینی صدر کا دورہ ملتوی ہونے سے کچھ چیزیں طے ہونے سے رہ گئیں تھیں ۔

وزیراعظم عمران خان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جو آپ بات کرتے ہیں ، سٹریٹیجک ڈائریکشن مستقبل کی کہاں ہے ، میں تو اس میں بہت کلیئر ہوں ،میری چھوٹی سی ٹیم بھی اس پر کلیئر ہے ، سب سے اپنے تعلقات قائم کریں، ہم اس پوزیشن پر نہیں آنا چاہتے کہ لگے کہ ہم کسی ایک کیمپ کا حصہ بن گئے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ ہم ساڑھے تین سال میں جس طرح ہم اس مائن فیلڈ سے نکلے ہیں ، کورونا سے بھی بہتر طریقے سے نکل گئے ، شرح ترقی بھی 5.37 پر پہنچ گیاہے ، ان حالات میں یہاں تک پہنچ گیاہے ،

ترسیلات زر اور زرمبادلہ درست سمت میں ہیں ، میں یہ ضرور سمجھتاہوں کہ اگر آپ معاشرے کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں تو آپ کے پاس پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثیرت ضروری ہے ، سینیٹ میں اکثیریت نہیں ہے ، وہاں پھنس جاتے ہیں ، بل اسمبلی سے پاس بھی کرواتے تھے تو سینٹ میں پھنس جاتا تھا ، وہاں ہماری ابھی بھی اکثریت نہیں ہے ، اگر اصلاح نہیں کرنا چاہتے ہیں تو اس حکومت میں ساروں کو خوش کر سکتے ہیں،

ہر کسی کو اس کا حصہ دے سکتے ہیں، وزیراعظم نے کہا کہ دنیا میں اتفاق رائے ہے کہ انسانی بحران سے افغانستان کو بچانا ہے ، صرف امریکہ کی رائے اس تفاق رائے سے کچھ مختلف ہے ، امریکہ جانتا ہے کہ ایسے ہی چلتے رہنے سے افغانستان میں انتشار پھیلے گا ۔انہوں نے کہا کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی کی بھی کچھ مجبوریاں ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں