اسلام آباد ہائیکورٹ 89

اظہر مشوانی کے بھائیوں کی بازیابی کا کیس، لاپتا مغوی کسی ایجنسی کے پاس نہیں،اٹارنی جنرل منصور عثمان

اسلام آ باد (رپورٹنگ آن لائن ) اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے سوشل میڈیا انچارج اظہر مشوانی کے لاپتا بھائیوں کی بازیابی کے کیس میں اٹارنی جنرل منصور عثمان کو لاپتا افراد سے متعلق تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کروانے کی ہدایت کردی، اس دوران اٹارنی جنرل نے بتایا کہ دونوں لاپتا مغوی کسی ایجنسی کے پاس نہیں ہیں۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی، اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت کے آغاز پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ معاملہ اعلی حکام کے سامنے رکھا گیا ہے، دونوں لاپتا مغوی کسی ایجنسی کے پاس نہیں ہیں ، ڈاکٹر بابر اعوان مجھے معلومات شیئر کردیں ہم مزید دیکھیں گے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ یہ کہاں سے لاپتا ہوئے؟ وکیل درخواستگزار بابر اعوان نے جواب دیا کہ یہ لاہور سے لاپتا ہوئے، ہم سے رابطہ کیا گیا، ایجنسیز کی جانب سے کہا گیا وہ ہمارے پاس ہیں، اظہر مشوانی کی اہلیہ کو بیرون ملک جانے سے روکا گیا، اظہر مشوانی کو کہا گیا کہ کچھ میٹریل ہے وہ آپ ڈیلیٹ کردیں ، کہا گیا آئندہ آپ ٹویٹ نہیں کریں گے۔ بعد ازاں بابر اعوان نے دستاویزات پڑھ کر سنائیں، ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پہلے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا اس کے بعد وہاں سے واپس لے کر درخواست یہاں دائر کی۔ بابر اعوان نے بتایا کہ اظہر مشوانی کے گھر ایک فون آیا کہ میں فلاں ادارے سے اور ہوں تین مطالبات رکھے گئے، ٹویٹ ڈیلیٹ کریں اور آئندہ کوئی ٹویٹ نہیں کریں گے کہا گیا، اس کے بعد ہم نے لاہورہائی کورٹ سے درخواست واپس لی اور اسلام آباد آئے، اسے پروسیڈ کرنے کے دو طریقے ہیں، اگر آپ کہیں گے کہ یہاں سے بھی ریلیف نہیں ملنا تو پھر؟ آپ کی دو ججمنٹس آئیں۔

اس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ میں نے حدود سے متعلق نہیں بلکہ یہ پوچھا کہ کہاں سے لاپتا ہوئے کیونکہ میں نے دیکھنا ہے کہ میرا دائرہ اختیار ہے بھی کہ نہیں؟ اٹارنی جنرل نے بتایاکہ کہ کسی بھی ایجنسی کے پاس نہیں لیکن کوشش کررہے ہیں، وہ ایک اعلی اور ذمہ دار عہدیدار ہیں، اٹارنی جنرل صاحب مناسب یہ ہے جلد کچھ کریں۔ جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ اٹارنی جنرل نے واضح بیان دے دیا ہے کہ مغوی ایجنسیز کے پاس نہیں، اس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ میں ڈاکٹر صاحب کو بتا دوں میں ذاتی طور پر معاملے کو دیکھ رہا ہوں۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ اٹارنی جنرل اعلی ترین لا افسر ہیں، ان کا بیان اہمیت کا حامل ہے، اٹارنی جنرل نے مزید بتایا کہ تمام ادارے اس پر کام کر رہے ہیں ، تمام وسائل بروئے کار لا رہے ہیں۔ اس موقع پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ پولیس ، ایف آئی اے ، آئی ایس آئی کیا کام کر رہی ہے اس پر وہ رپورٹ دے دیں، منصور عثمان نے جواب دیا کہ ہم رپورٹ دے دیں گے، تمام ادارے اس کیس پر کام کر رہے ہیں۔ دوران سماعت ڈاکٹر بابر اعوان نے کچے کے ڈاکوں کا معاملہ عدالت میں اٹھا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کچے کے ڈاکوں نے یوٹیوب چینل بنا کر کہا کہ سبسکرائب کریں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جنوبی پنجاب و دیگر علاقوں کی صورتحال تو بڑی خراب ہے،کچے کے ڈاکوں کو ہم بچپن سے دیکھ رہے ہیں سن رہے ہیں۔ بعد ازاں اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں ذاتی طور پر اس کے لیے کوشش کررہا ہوں ، ڈاکٹر صاحب کے لیے بھی احترام ہے، ہم تمام تر وسائل استعمال کررہے ہیں۔

اسی کے ساتھ عدالت نے اٹارنی جنرل کو لاپتا افراد سے متعلق تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کرانے کا حکم دے دیا۔ وکیل بابر اعوان کا کہنا تھا کہ آج 85 دن ہوگئے، کیسے ہم کہہ سکتے کہ ہمیں پتا نہیں؟ چیف جسٹس نے اٹرانی جنرل سے مکالمہ کیا کہ آپ کوشش جاری رکھیں، کوئی پیش رفت ہوتی ہے تو عدالت کو آگاہ کردیں۔ بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت آئندہ ہفتہ تک کے لیے ملتوی کردی۔
٭٭٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں