گوہر اعجاز 78

اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی معیشت کا گلا گھونٹ رہی ہے: گوہر اعجاز

کراچی(رپورٹنگ آن لائن)سابق نگران وفاقی وزیرگوہر اعجازنے کہا ہے کہ اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی معیشت کا گلا گھونٹ رہی ہے،ایف بی آر نے ٹیکس وصولیوں میں 18 فیصد اضافے کا ٹارگٹ مقرر کیا ہے، مانیٹری پالیسی ٹیکس ادا کرنے والے کاروباری سرگرمیوں کو دبا رہی ہے.

شرح سود کو فوری طور پر 9 فیصد پر لایا جائے، دسمبر 2025 تک شرح سود کو 6 فیصد پر لانا ہوگا۔خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سابق نگران وفاقی وزیر نے کہاکہ پاکستان مینوفیکچرنگ اور ایکسپورٹس میں با صلاحیت ہے ، مانیٹری پالیسی معاشی ترقی کا راستہ روک رہی ہے، 30 جولائی کو فیصلہ ہوگا کہ پاکستان کو مسابقتی سپورٹ ملتی ہے یا پھر نہیں، پاکستان میں کاروباری لاگت علاقائی ممالک کے مقابلے میں دوگنی ہے۔

گوہر اعجاز نے کہا کہ پاکستان میں بجلی کا نرخ 12 سے 14 سینٹ فی یونٹ ہے،علاقائی ممالک میں بجلی 5 سے 9 سینٹ فی یونٹ میں دستیاب ہے، پاکستان میں بے روزگاری 22 فیصد ، انڈیا میں 4.2 اور چین میں 4.5 فیصد ہے، صنعتکار مانیٹری پالیسی کمیٹی سے کاروباری سرگرمیوں کو ترجیح دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ شرح سود میں کمی سے کاروباری لاگت کم ہو گی، کاروباری سرگرمیاں بڑھیں گی اور روزگار ملے گا.

شرح سود میں کمی سے 3 ٹریلین روپے کی بچت ہوگی، معاشی پالیسی میں غیر ضروری درآمدات کو روکنے کے کئی طریقے ہیں۔سابق نگران وفاقی وزیر نے کہا کہ 2022 کا بوم اینڈ بسٹ سائیکل کم شرح سود کی وجہ سے نہیں آیا، 2022 میں 3 ارب ڈالرز کی ویکسین درآمد کی گئی، 2022 میں یوکرین جنگ کی وجہ سے 12 ارب ڈالرز تیل و گیس کی درآمد پر اضافی خرچ کیے گئے۔

گوہر اعجاز نے کہاکہ ان فیکٹرز کا ملکی شرح سود سے کوئی تعلق نہیں تھا، سالانہ 5 فیصد مہنگائی کے مقابلے میں 11 فیصد شرح سود نا قابل فہم ہے۔واضح رہے کہ 30جولائی کو سٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کا اجلاس ہو رہا ہے، پاکستان میں شرح سود 11 فیصد پر ہے، پاکستان میں شرح سود 11 فیصد ، انڈیا میں 5.5 اور چین میں 3 فیصد ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں