اسلام آباد ہائیکورٹ 208

اسلام آباد ہائیکورٹ ‘وزارتوں اور ماتحت اداروں کے نام پر ریئل اسٹیٹ بزنس کےخلاف حتمی دلائل طلب

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزارتوں اور ان کے ماتحت اداروں کے نام پر ریئل اسٹیٹ بزنس کے خلاف کیسز میں حتمی دلائل طلب کر لیے۔

جبکہ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دئیے ہیں بادی النظر میں وزارتوں اور ان کے ماتحت اداروں کا رئیل اسٹیٹ بزنس کرنا غیر قانونی ہے‘کیا حکومت کے کنٹرول کیے جانے والے ادارے بالواسطہ یا بلا واسطہ کوئی بزنس کرسکتے ہیں؟‘یہ مفادات کا ٹکراو ہے‘ریاست خود کرمنلز کو تحفظ دیتی ہے ‘یہاں کرمنلز اپیلوں میں یہ نظر آرہا ہوتا ہے‘ اسٹیٹ خود ان کرائمز میں شامل ہے یہ کورٹ تو آپ کو بتا رہی ہے کہ اس میں بنیادی حقوق کا معاملہ ہے ۔

پیر کو چیف جسٹس اطہر من اللہ نے وزارتوں اور ماتحت اداروں کے نام پر ریئل اسٹیٹ بزنس کےخلاف دائر درخواست کی سماعت کی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ بادی النظر میں وزارتوں اور ان کے ماتحت اداروں کا رئیل اسٹیٹ بزنس کرنا غیر قانونی ہے۔ اٹارنی جنرل آئندہ سماعت پر حتمی دلائل دیں اس کیس کا فیصلہ کریں گے۔ عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سےسوال کیا کہ کیا حکومت کے کنٹرول کیے جانے والے ادارے بالواسطہ یا بلا واسطہ کوئی بزنس کرسکتے ہیں؟ ڈپٹی اٹارنی جنرل سید طیب شاہ نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی ہدایت کے مطابق اس ہفتے کابینہ کو اس حوالے سے سمری بھیجوا دیں گے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پوچھا کیا یہ سرکاری ادارے اپنے نام کے ساتھ رئیل اسٹیٹ بزنس کر سکتے ہیں؟ یہ مفادات کا ٹکراوے۔

ایف آئی اے غیر قانونی سوسائٹیز کے خلاف کارروائیاں کرتی ہے، خود بھی وہ کام کر رہی ہے۔ کیا سرکار خود کام نہیں کر سکتی؟ کیا ہر چیز اس عدالت نے آپ کو کہنا ہوتی ہے کہ یہ کریں؟۔ عدالت نے ریمارکس میں مذید کہا کہ یہ کورٹ قانون کو دیکھ کر فیصلہ کرے گی۔ ریاست خود کرمنلز کو تحفظ دیتی ہے یہاں کرمنلز اپیلوں میں یہ نظر آرہا ہوتا ہے۔ اسٹیٹ خود ان کرائمز میں شامل ہے یہ کورٹ تو آپ کو بتا رہی ہے کہ اس میں بنیادی حقوق کا معاملہ ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے حتمی دلائل طلب کرتے ہوئے سماعت 17 جنوری تک ملتوی کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں