انسپکشن 213

اسلام آباد نمبر کی گاڑیاں، فیصل آباد میں کلرک انسپکشن کرنے لگا۔

تنویر سرور۔۔

عوام الناس کی سہولت کی خاطر فیصل آباد میں اسلام آباد نمبر کی حامل گاڑیوں کی فزیکل انسپکشن کے لئے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب کی طرف سے خلاف قانون انسپکٹر کی بجائے افتخار احمد نامی کلرک کو فزیکل انسپکشن پر معمور کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق پنجاب اور ملک بھر میں بشمول اسلام آباد صرف ایکسائز انسپکٹر ہی گاڑیوں کی فزیکل انسپکشن کر سکتا ہے تاہم علم میں آیا یے کہ فیصل آباد میں افتخار احمد نامی اہلکار کو اسلام آباد نمبر کی حامل گاڑیوں کی فزیکل انسپکشن کا اختیار دیا گیا ہے جو کہ انسپکٹر نہیں ہے اور نہ ہی اس کے پاس OPS یا لک آفٹر کے طورپر انسپکٹر کا چارج ہے۔

افتخار احمد نامی اہلکار ڈائریکٹوریٹ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن فیصل آباد کی strength پر کلرک ہے۔

لیکن اسلام آباد نمبر کی حامل گاڑیوں کی فیصل آباد میں فزیکل انسپکشن کے لئے کلرک افتخار احمد کے آرڈر کس نے کیئے ہیں اس کے متعلق کوئی کچھ نہیں جانتا۔

ایک طرف ایم آر اے عبد الستار اعوان کہتے ہیں کہ انہوں نے افتخار احمد کے آرڈر کئے ہیں نہ ہی ان کا اس اہلکار سے کوئی تعلق ہے۔

دوسری طرف ڈائیریکٹوریٹ ایکسائز فیصل آباد کی ایڈمنسٹریشن بھی کلرک افتخار احمد کے آرڈرز سے لاعلم ہے۔

ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ انسپکٹر کی بجائے کلرک کو کس کے حکم کی روشنی میں اسلام آباد نمبر کی گاڑیوں کی فزیکل انسپکشن کا اختیار دیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ افتخار احمد اسلام آباد نمبر کی کسی بھی گاڑی کی فزیکل انسپکشن کے لئے 5 سے 10 ہزار روپے رشوت لیتا یے اور جو رشوت نہ دے اسے اپلیکیشن نہ چلنے کا بہانہ بنا کر خوار کرتا ہے۔

یہ بھی علم میں آیا ہے کہ مذکورہ اہلکار متعلقہ ایم آر اے اور ڈائریکٹر کی اجازت اور کسی اختیار کے بغیر ہی گاڑی مالکان کو دفتر ایکسائز کی بجائے گاڑی کی فزیکل انسپکشن کے لئے اقبال سٹیڈیم بلاتا ہے۔

اس سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے فیصل آباد موٹر برانچ کے کلرک افتخار احمد کا کہنا تھا کہ وہ رشوت نہیں لیتا یہ تو اضافی ذمہ داری ہے جو اس کے افسروں نے زبردستی اس پر ڈال رکھی ہے۔اور اویس گروپ اس کے خلاف درخواستیں دیتا رہتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں