شرجیل انعام میمن 13

اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے،اختلاف کے نام پر گالم گلوچ کرنا شرمناک عمل ہے،شرجیل انعام میمن

کراچی(رپورٹنگ آن لائن)سندھ کے سینئروزیرشرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے،اختلاف کے نام پر گالم گلوچ کرنا شرمناک عمل ہے،گورنر ہائوس کا ایک تقدس ہے، وفاق اور صوبے کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دینا چاہیے، عمران خان کب رہا ہوں گے، اس بارے میں مجھے کوئی علم نہیں،رمضان کا مقدس مہینہ ہے، ان کی صحت اور تندرستی کے لیے دعاگو ہوں، ہماری نئی بسیں کسٹم میں روک کر رکھی گئی ہیں،ہمیں شکایت ہے کہ پنجاب حکومت پر کسٹم ڈیوٹی ایک فیصد عائد کی گئی ہے .

جبکہ سندھ حکومت سے 17 سے 18 فیصد ڈیوٹی وصول کی جا رہی ہے،ایف بی آر کو بھی کہا جائے کہ پورے ملک کے لیے قانون ایک ہی رکھا جائے، ہمیں اندازہ ہے کہ کراچی کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے،کراچی کے تمام اداروں کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں،میں ریڈ لائن بی آر ٹی کوریڈور میں موجود ہوں،روزے کے باوجود دن رات مسلسل کام جاری ہے،ہمیں لوگوں کو ایسے منصوبے دینے ہیں جن سے انہیں سہولت ملے۔ریڈ لائن منصوبے کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگومیں شرجیل انعام میمن نے کہاکہ ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے کو بہت سے چیلنجز کا سامنا رہا۔

شہریوں کی بڑی تعداد روزانہ اس سڑک کو استعمال کرتی ہے۔اس منصوبے کو ختم کرنے کی باتیں بھی کی جا رہی تھیں۔ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبہ آنے والی نسلوں کے کام آئے گا۔سینئروزیرنے کہاکہ کراچی میں اس وقت بڑی تعداد میں میگا منصوبے جاری ہیں،کام میں تاخیر ہوئی، مگر اس کی وجہ بد نیتی نہیں بلکہ درپیش چیلنجز تھے۔عید سے پہلے سائیڈ کی سڑکوں کو مکمل کر لیا جائے گا۔پیپلز چورنگی پر جو سڑک ٹوٹی ہوئی ہے، وہ بہتر ہو جائے گی۔یونیورسٹی روڈ کے علاقے کو بھی بہتر کیا جائے گا۔شرجیل انعام میمن نے کہاکہ کراچی کے عوام کے لیے شاہراہِ بھٹو سب سے بڑی سہولت ہے۔ہمیں اندازہ ہے کہ کراچی کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔کراچی کے تمام اداروں کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

کچھ لوگ مایوسی پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ہم سے کچھ کمی کوتاہیاں ہوئی ہوں گی، اس سے انکار نہیں کرتے۔پیپلز پارٹی کی حکومت ہی ترقیاتی کاموں کو پایہ تکمیل تک پہنچائے گی۔ہم اندرونی سڑکوں کی بھی مرمت کر رہے ہیں۔بڑے پیمانے پر انتظامیہ کام کر رہی ہے،شرجیل انعام میمن نے کہاکہ میئر کراچی بھی دن رات کام کر رہے ہیں۔ریڈ لائن منصوبے کی وجہ سے ہم نہیں چاہتے کہ کسی کی زندگی عذاب بنے۔پاکستان میں ہر منصوبے کی لاگت مہنگائی کے تناسب سے بڑھی ہے۔سینئروزیرسندھ نے کہاکہ عمران خان کب رہا ہوں گے، اس بارے میں مجھے کوئی علم نہیں۔رمضان کا مقدس مہینہ ہے، میں عمران خان کی صحت اور تندرستی کے لیے دعاگو ہوں،ان کی رہائی کا معاملہ ان ہی کے رویوں اور طرزِ عمل پر منحصر ہے۔

سینئروزیر نے کہاکہ پی ٹی آئی کے بعض سپورٹر بدتمیزی میں تمام حدیں عبور کر جاتے ہیں۔اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے۔اختلاف کے نام پر گالم گلوچ کرنا شرمناک عمل ہے۔پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا تنقید کرے، لیکن اخلاق سے گری ہوئی باتیں نہ کی جائیں۔انہوں نے کہاکہ گورنر ہائوس کا ایک تقدس ہے، وفاق اور صوبے کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دینا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ فاروق ستار کا چند سالہ سیاسی کیریئر کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، وہ ایک مسکین آدمی ہیں۔خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال انہیں قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔شرجیل انعام میمن نے کہاکہ بائیو گیس پلانٹ میں کچھ تبدیلیاں کی گئی ہیں۔بہت سی باتیں دو پارٹیوں کے درمیان ہو چکی تھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں