شاہد خاقان عباسی 296

احتساب کا ادارہ آج خود قابل احتساب ہے، الیکشن چوری کا کھرا وزیراعظم تک جاتا ہے، شاہد خاقان عباسی

کراچی (رپورٹنگ آن لائن ) پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ضمنی انتخاب مسلم لیگ ن نے جیت لیا ہے، سوال ری پولنگ کا نہیں، کیا پولنگ عملے کواغوا کرنا جرم نہیں ؟ آج پوچھنے والا کوئی نہیں، آپ دوبارہ انتخاب بھی کرائیں گے تو مسلم لیگ ن کی ہی جیت ہوگی ،

وزیراعظم عمران خان اور ان کے وزرا کا احتساب کون کرے گا؟، انصاف کے نظام پر آج سوالیہ نشان ہے، 20 پولنگ اسٹیشنزکے پریذائیڈنگ افسر ووٹوں سمیت غائب ہو گئے، کمیشن اس لیے بنتے ہیں کہ مجرموں کی چوری پر پردہ ڈالا جائے، براڈ شیٹ کیس سے متعلق بھی کمیشن بن گیا ہے، احتساب کا ادارہ آج خود قابل احتساب ہے، الیکشن چوری کا کھرا وزیراعظم تک جاتا ہے۔

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کیا پریذائیڈنگ آفیسرز کو اغوا کرنا جرم نہیں ہے، عوام کی امانت کا تقدس پامال کیا جا رہا ہے، وزیراعظم کے وزیر، مشیر اور انتظامیہ سب ووٹ کا تقدس پامال کرنے میں مصروف عمل ہیں، آج کہا جاتا ہے دوبارہ الیکشن کرالیں، آپ مقابلہ کرنا چاہتے ہیں تو این اے 75 پورے حلقے میں الیکشن کرائیں۔ شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ آج ملک کی عوام سوال کر رہے ہیں کہ کس کے حکم پر افسران نے ڈسکہ الیکشن میں چوری کی، ان افسران پر مقدمہ درج ہونا چاہیے، سابق وزیراعظم عدالت میں کھڑا ہوسکتا ہے تو الیکشن چوری کرنیوالے افسران کو بھی عدالت میں کھڑا ہونا پڑے گا، انتخابی اصلاحات کی ضرورت نہیں، آئین و قانون کے احترام کی ضرورت ہے۔

لیگی رہنما نے مزید کہا کہ احتساب کا ادارہ خود قابل احتساب ہے، ملک میں آٹا، گندم کی چوری کا احتساب کون کرے گا ؟ جب کوئی چوری ہوتی ہے تو کمیشن بنا دیا جاتا ہے، کمیشن بنتے ہی اس لئے ہیں کہ مجرمان کو تحفظ دیا جائے اور چوری پر پردہ ڈالا جائے، اب براڈ شیٹ پر بھی کمیشن بنا دیا گیا ہے، دنیا کی کرپٹ ترین حکومتوں میں عمران خان کی حکومت ہے، ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے بھی کہہ دیا کہ پی ٹی آئی کی حکومت کرپٹ ترین ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں