کراچی(رپورٹنگ آن لائن)مقامی احتساب عدالت نے سابق اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی و دیگر کیخلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کے ریفرنس کی سماعت بغیر کسی کارروائی کے13 فروری تک ملتوی کردی۔
منگل کو احتساب عدالت میںسابق اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی و دیگر کیخلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کے ریفرنس کی سماعت ہوئی۔ متعلقہ جج کی رخصت کے باعث سماعت لنک عدالت میں ہوئی۔ لنک جج نے ریمارکس دیئے کہ عدالت عالیہ نیا جج تعینات کرے یا دوبارہ سماعت کی ہدایت دی جائے۔
عدالت نے ریفرنس کی سماعت بغیر کسی کارروائی 13 فروری تک ملتوی کردی۔ آغا سراج درانی و دیگر نے احتساب عدالت کے دائرہ اختیار کیخلاف درخواست دائر کر رکھی ہے۔ سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں آغا سراج درانی نے کہا کہ جو متعلقہ جج تھیں وہ ریٹائرڈ ہوچکی ہیں۔ ہماری درخواست پر فیصلہ نہیں ہوسکا۔ جو نئے جج آئیں گے وہ فیصلہ کریں گے۔ 30 برسوں سے میڈیا ٹرائل چل رہا ہے۔ ہر بار مقدمات میں باعزت بری ہوئے ہیں
۔ہم ہمیشہ مقدمات کا سامنا کرتے ہیں۔ سیاسی بنیادوں پر مقدمات کا سلسلہ اب ختم ہونا چاہیئے۔ پیپلز پارٹی مزاحمت کرتی ہے جس کی وجہ سے ہمارے خلاف مقدمات درج ہوتے ہیں۔ پارٹی قیادت نے یہی سکھایا ہے کہ مقدمات کا سامنا کریں۔ کیس چلتا ہے تو جھوٹ اور سچ سب سامنے آجاتا ہے۔
وفاقی حکومت کو اتحادیوں سے مشاورت کرنا چاہیئے۔ آصف زرداری نے پارلیمنٹ کو بااختیار بنایا۔ دریائے سندھ نے نئی نہروں کے قیام کی مخالفت کرتے ہیں۔ سندھ کے ساتھ زیادتی ہوئی تو ایک ایک سندھی باہر آئے گا۔ چاہتے ہیں ملک آئین کے مطابق چلے۔ صوبے میں رہنے والے تمام طلبا کے برابر حقوق ہیں۔









