شہباز اکمل جندران۔۔۔۔
پنجاب میں جنرل نشست پر نومنتخب سینیٹر عون عباس کے کاغذات نامزدگی کے ہمراہ جمع کروائے جانے والے اثاثہ جات کے گوشواروں میں بڑا تضاد سامنے آگیا ہے۔

عون عباس نے اپنے اثاثوں میں گزشتہ مالی سال کی نسبت 27 لاکھ روپے کا اضافہ بیان کیا یے۔یہ اضافہ کب اور کیس ہوا ہے اس کے متعلق کچھ بیان نہیں کیا۔

جبکہ ان کی آمدن بھی نہیں بڑھی اور آمدن وہی رہی جو گزشتہ دو برسوں کے دوران تھی۔

عون عباس نے مالی سال 2018 مالی سال 2019 اور مالی سال 2020 میں کل آمدن 24لاکھ روپے بیان کی تاہم 2018 میں میں کل 24 لاکھ روپے آمدن پر2 لاکھ 48 ہزار روپے ٹیکس ادا کیا۔ 2019 میں اسی آمدن پر 64ہزار روپے جبکہ 2020 میں 2 لاکھ 30 ہزار روپے ٹیکس ادا کیا۔

اسی طرح عون عباس نے کاغذات نامزدگی کے ہمراہ بیان حلفی کے کالم H میں اپنا موجودہ پیشہ MD پاکستان بیت المال بیان کیا ہے لیکن کالم K میں آمدن کے خانوں میں محض بزنس ہی ذریعہ آمدن بیان کیا ہے۔بطور ایم ڈی بیت المال اپنی تنخواہ کا ذکر نہیں کیا۔

اور نہ یہ بیان کیا ہے کہ وہ بطور ایم ڈی پاکستان بیت المال تنخواہ نہیں لیتے رہے۔









