اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن) پاکستان کے وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ آپریشن غضب لِلحق میں اب تک 331 افغان طالبان اہلکار ہلاک جبکہ 500 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے آج صبح ایکس پر پوسٹ میں بتایا کہ اس آپریشن کے دوران افغان طالبان کی 104 چیک پوسٹیں تباہ جبکہ 22 قبضے میں لی گئیں۔عطا تارڑ نے مزید بتایا کہ پاکستانی فورسز نے افغان طالبان کے 163 ٹینک اور فوجی گاڑیاں تباہ کیں اور افغانستان میں 37 مقامات کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ دہشتگردوں اور افغان طالبان حکومت کے درمیان گٹھ جوڑ اب روزِ روشن کی طرح واضح ہو چکا ہے اور پاکستان اس معاملے پر بارہا عالمی برادری کو آگاہ کر چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں ہونے والے خودکش اور دیگر دہشتگرد حملوں میں افغان سرزمین استعمال ہو رہی ہے، افغانستان ہر قسم کی پناہ اور سہولت کاری ان عناصر کو فراہم کر رہا ہے جو پاکستان میں داخل ہو کر معصوم شہریوں، سکیورٹی اہلکاروں اور مسلح افواج کے افسران و جوانوں کو نشانہ بناتے ہیں۔
اس سے قبل فوج کے شعبہ اطلاعات عامہ کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا تھا کہ اس لڑائی کے دوران وطن کی خاطر اب تک 12 فوجی جوانوں نے اپنی جانیں نچھاور کی ہیں جبکہ 27جوان زخمی ہیں۔
خیال رہے کہ 27 فروری کی شب افغان طالبان رجیم کی جانب سے پاک افغان سرحد پر کئی مقامات پر حملہ کر دیا گیا تھا جس کا پاکستان کی مسلح افواج نے بروقت مؤثر جواب دیا اور آپریشن غضب للحق کا آغاز کیا جو تاحال جاری ہے۔
پاکستانی وزیرِاعظم کے ترجمان مشرف زیدی کا کہنا ہے کہ پاکستان کو افغانستان کے خلاف اعلان جنگ کرنے کی ضرورت نہیں، یہ جنگ نہیں ہے، تاہم سرحد پار کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک افغان طالبان اور دہشتگرد گروہوں کے درمیان تعلق ختم نہیں ہو جاتا۔









