اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ہدایت پر سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں ،متاثرہ علاقوں میں پلوں اور شاہراہوں کی بحالی کا کام مکمل کرلیا گیا ہے، امدادی کارروائیوں کے دوران پاک فوج کے 2 جوان شہید اور 2 زخمی ہوئے جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہاہے کہ پنجاب کے تین دریائوں میں سیلابی صورتحال ہے، این ڈی ایم اے پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سے مکمل رابطے میں ہے۔
بدھ کو وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ، ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری اور چیئرمین این ڈی ایم اے نے سیلابی صورتحال پر میڈیا کو بریفنگ دی۔وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے بارشوں اور سیلابی صورتحال کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پنجاب کے تین دریائوں میں سیلابی صورتحال ہے، این ڈی ایم اے پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سے مکمل رابطے میں ہے۔ عطاء تارڑ نے کہاکہ دریائے ستلج میں گنڈاسنگھ والا، دریائے چناب میں مرالہ اور مرالہ سے ہیڈ خانکی کی طرف پانی کا بہاؤ بڑھ گیا ہے، خانکی کے مقام پر 10 لاکھ کیوسک سے بڑھ چکا ہے، قادر آباد کیی طرف پانی کا بہاؤ بڑھے گا۔ وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات نے کہاکہ قادر آباد میں مقامی حکام اور ضلعی انتظامیہ کو لوگوں کے انخلاء کے حوالے سے این ڈی ایم اے نے مطلع کر دیا ہے، این ڈی ایم اے کی طرف سے بروقت اطلاع فراہم کی جا رہی ہے۔
عطاء تارڑ نے کہاکہ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی سیلاب کی صورتحال کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کی، وزیراعظم نے پیشگی اطلاع کے معاملے کو موثر بنانے اور ریلیف سرگرمیوں کو تیز کرنے کی ہدایت کی ہے، این ڈی ایم اے کی طرف سے خیمے اور دیگر اشیاء فراہم کی جا رہی ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ دریائے راوی میں جسڑ اور شاہدرہ کی طرف صورتحال قدرے بہتر ہے، تمام تر حفاظتی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ صوبائی حکومت اور این ڈی ایم اے مل کر اس صورتحال سے نمٹ رہی ہے، وزیراعظم اس معاملے پر مکمل آگاہی حاصل کئے ہوئے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ اگلے 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران موسم کی صورتحال کے بارے میں بھی وزیراعظم نے اپ ڈیٹ لی، پیشگی اطلاع کا نظام بہت کارآمد ثابت ہوا ہے۔
عطاء تارڑ نے کہاکہ پیشگی اطلاع ملنے سے لوگوں کا انخلاء ممکن ہوا، دریائوں کی صورتحال کو مسلسل مانیٹر کیا جا رہا ہے، یہ نیشنل رسپانس ہے جس میں پاک فوج اور تمام ادارے بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ اگلے چند دنوں لوگوں کے نقصانات کا جائزہ لیا جائے گا اور ان کی بحالی کے لئے اقدامات کئے جائیں گے۔چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں 300 ملی میٹر سے زیادہ بارش ہوئی جسے ہم رات سے مانیٹر کرتے رہے، اسی طرح سیالکوٹ کے شمالی اور مشرقی علاقوں میں 600 ملی میٹر سے زائد بارش ہوئی۔انہوںنے کہاکہ آئندہ دو روز میں ممکنہ صورتحال کے پیش نظر پوری طرح تیار ہیں، لاہور، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، نارووال میں مزید بارشیں متوقع ہیں ، دریائے سندھ میں اس وقت پانی کا بہاو معمول کے مطابق ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہیڈ خانکی میں 10 لاکھ کیوسک ریلہ موجود ہے جس کی وجہ سے آنے والے دنوں میں خانکی اور قادر آباد کے درمیان مزید طغیانی آئے گی، ہم صورتحال کو قابو میں کرنے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پنجاب کے شمالی علاقوں میں معمول سے زیادہ بارشیں ہوئیں، جس کی وجہ سے پنجاب کے دریاؤں میں دباؤ بڑھے گا جب کہ جموں میں فلش فلڈ اور بادل پھٹنے سے نقصان ہوا، شدید بارشوں سے دریاؤں میں طغیانی آئی۔لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر نے کہا کہ این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم اے، چیف سیکریٹریز ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں جب کہ فیلڈ مارشل کی ہدایت کے مطابق تمام ملٹری فارمیشنز اپنے اپنے علاقوں میں عوام اور پی ڈی ایم اے کے ساتھ ملکر لوگوں کو محفوظ مقام پر پہنچانے کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تک دریائے ستلج کے اطراف 2 لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے اور اب تک کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔
انہوںنے کہاکہ آنے والے دنوں میں ہم سندھ حکومت کے ساتھ بھی معلومات شیئر کریں گے، کوٹری یا گدو بیراج پر جو دباؤ آئے گا اور اسی طرح وہ علاقے جن میں انخلا کی ضرورت ہوگی، وہ ڈیٹا پی ڈی ایم اے سندھ کے ساتھ بھی شیئر کیا گیا ہے۔چیئرمین این ڈی ایم اے نے کہا کہ 29 اگست سے 9 ستمبر تک مون سون کا آخری اسپیل آئے گا جس میں انہیں علاقوں میں دوبارہ بارشیں ہونے کی توقع ہے جس کے لیے تمام الرٹس متعلقہ اداروں کے ساتھ شیئر کیے جاچکے ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں جب سے سیلاب آیا ہے اور گزشتہ رات سے پنجاب میں بھی صورتحال ہے، اس پر وزیراعظم اور آرمی چیف کی ہدایت پر تمام متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔انہوںنے کہاکہ فیلڈ مارشل کی ہدایت پر اس وقت ایک انجینئر بریگیڈ اور 30 یونٹس صرف سیلابی صورتحال سے نمٹنے میں مصروف ہیں جس میں 19 انفینٹری یونٹس، 7 انجینئر اور 4 میڈیکل یونٹس شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خراب موسمی حالات کے باوجود پاکستان آرمی نے 3 بڑے پل جن میں 2 خیبرپختونخوا اور ایک گلگت بلتستان میں تھا، اس کا مرمتی کام مکمل کرلیا گیا ہے جب کہ آرمی انجینئرز نے سول انتظامیہ کے ساتھ ملکر 104 روڈ مکمل طور پر کلیئر کرلی گئی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ امدادی کارروائیوں کے دوران پاک فوج کے 2 جوان شہید اور 2 زخمی ہوئے۔ترجمان پاک فوج کے مطابق سیلابی صورتحال کے باوجود ہماری ورکنگ باؤنڈری اور بارڈر ہے ، وہاں پر کڑی نگرانی کی جارہی ہے اور پاکستان کے عظیم وطن کے دفاع کے لیے کسی بھی پوسٹ کو خالی نہیں کیا گیا۔









