لاہور (رپورٹنگ آن لائن)وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف نے کسی طرح کی کوئی اضافی شرائط عائد نہیں کیں ،آئی ایم ایف کی اسیسمنٹ رپورٹ میں جو 15سفارشات آئی ہیں ان پر ایکشن پلان بنا رہے ہیں، اگر اس کو چھپانے کی بات ہوتی تو اسے سامنے ہی کیوں لاتے بلکہ ہم نے اس پر خود اقدام کیاہے ،سفارشات پر واضح ایکشن پلانے سامنے آئے گا،پارلیمنٹرینز کے اثاثے 31دسمبر کو ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں ،سول سرونٹس کے کیوں نہیں آنے چاہئیں،آئی ایم ایف نے اس کے لئے کہا جس پر قانون سازی کی گئی اور اب عملدرآمد ہو رہا ہے اسے آئی ایم ایف کی اضافی شرط کہا جارہا ہے ۔
ان خیالات کا اظہارانہوں نے آل پاکستان چیمبرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔کانفرنس میں ملک بھر سے چیمبرز آف کامرس کے صدور اور نمائندگان شریک ہوئے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستانی معیشت میں استحکام پائیدار ترقی کی جانب مثبت پیشرفت ہے ،اصلاحاتی اقدامات سے معاشی اشاریوں میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے ،سرمایہ کاردوست پالیسیوں کی بدولت معیشت مضبوط ہوئی،مقامی صنعتوں کا فروغ اورپیداواری شعبے میں بحالی کا عمل تیز ہوا،چھوٹی و درمیانی صنعتوں کے لئے سہولتیں روزگار کے کے نئے مواقع کا ذریعہ ہیں،برآمدی صنعتوں میں بہتری سے زر مبادلہ میں اضافہ دیکھنے کو ملا،سرمایہ کاروں اور تاجروں کا اعتماد بحال ہونے سے بزنس کو فروغ ملا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ اسٹارٹ اپس اور نوجوان کاروباری افراد کے لئے سازگار ماحول حکومت کی ترجیح ہے،ڈیجیٹل معیشت اور ای کامرس سے کاروباری سر گرمیوں میں وسعت آئی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس نظام میں شفافیت کے لئے ڈیجیٹل اصلاحات متعارف کرائیں،ٹیکس نیٹ میں توسیع، ٹکس دہندگان کو سہولت دینے سے اعتماد بڑھا،خود کار نظام سے ٹیکس وصولی میں شفافیت اور اعتماد میں اضافہ خوش آئند ہے۔
انہوںنے کہا کہ وزیر اعظم کی معاشی ٹیم کی محنت ار کاوشوں کی بدولت بد عنوانی میں نمایاں حد تک کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ پر پچھلے ہفتے اجلاس ہوا،اجلاس میں صوبوں کی مشاورت سے آگے بڑھنے پر اتفاق ہو اہے،چاروں صوبائی وزرائے خزانہ سے بہت اچھے ماحول میں بات چیت ہوئی۔این ایف سی کے آٹھ گروپ میں سے دو وفاق اور چھ صوبوں کے پاس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاسکو بند کر رہے ہیں یہ کرپشن کا گڑھ ہے،اگلے سال کا بجٹ پالیسی ساز بنائے گا۔









