زاہد حسین 177

آئی ایم ایف قرض ادائیگی سے قبل ہی اپنی شرائط منوا رہا ہے ، ، زاہد حسین

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فورم وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدراورسابق صوبائی وزیرمیاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ اب قرض ادائیگی سے قبل ہی شرائط منوائی جا رہی ہیں، عالمی ادارہ کئی دہائیوں کی وعدہ خلافیوں کے بعد اب قرض دینے کے بعد اصلاحات پرزور دینے کے بجائے قرض دینے سے قبل ہی اصلاحات کا مطالبہ کررہا ہے جوایک بڑی تبدیلی ہے۔

ہفتے کو انہوں نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جب تک آئی ایم ایف کے پانچ پیشگی اقدامات پرعمل درآمد نہیں ہوگا اس وقت تک پانچ سوملین ڈالر کا قرضہ نہیں ملے گا، ان اقدامات کے لئے پاکستان کے پاس ایک ماہ سے کم کا وقت ہے، حکومت اورعوام آئی ایم ایف کی پالیسی میں بنیادی تبدیلی کو ہماری سیاسی، اقتصادی اور قومی خود مختاری میں مداخلت تصورکررہے ہیں مگراس وقت حکومت کے پاس کوئی دوسرا آپشن بھی نہیں ہے کیونکہ تمام دوست ممالک منہ موڑچکے ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ کئی دہائیوں سے آئی ایم ایف سے قرض لینے سے قبل غیرضروری سبسڈیزاورٹیکس چھوٹ ختم کرنے، ٹیکس میں اضافے، اخراجات میں کمی اوراشرافیہ نوازی کا سلسلہ ختم کرنے سمیت متعدد وعدے لئے گئے جن پرکبھی عمل نہیں کیا گیا ورنہ اس وقت ملک کی یہ حالت نہیں ہوتی۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ اصلاحات نہ کرنے کے نتیجہ میں قرضوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے جبکہ ہماری حکومتوں نے سارا زوربا اثرممالک کی مدد سے آئی ایم ایف شرائط میں نرمی کے حصول پرلگایا جس سے خسارہ بڑھتا گیا اورعالمی اداروں کی بد اعتمادی عروج پر پہنچ گئی۔

انکا کہنا تھا کہ پاکستان اب امریکہ کے مقابلے میں چین سے زیادہ قریب ہو رہا ہے جومغربی ممالک اوراداروں کو ایک آنکھ نہیں بھاتا جبکہ آئی ایم ایف کو یہ خدشہ بھی لاحق ہے کہ آئی ایم ایف کے ڈالر چینی قرضوں کی ادائیگی کے لئے استعمال ہورہے ہیں۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ اپریل میں آئی ایم ایف کی شرائط اس مفروضے پر نہیں مانی گئیں کہ ملک کو قرضوں کے بغیر چلایا جا سکتا ہے اوراگر بہترنتائج ملے تو آئی ایم ایف کی ضرورت ہی نہیں رہے گی یا اگر کچھ قرضہ لینا بھی پڑا تواسکی شرائط نرم ہونگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ مفروضہ خام خیالی ثابت ہوا کیونکہ اندرون ملک گورننس کو بہتر نہیں کیا جا سکا بجلی اور گیس کی فراہمی میں رکاوٹ اوران کی قیمتوں کی زیادتی کی وجہ سے ایکسپورٹس میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو سکا جس کی وجہ سے تجارتی خسارہ اور کرنٹ اکانٹ ڈیفیسٹ قابو سے باہر ہورہاہے جس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں