احمد الشرع 69

آئیے مل کر ایک وطن بنائیں، احمد الشرع کا کردوں کے حقوق کی ضمانت دینے والا فرمان جاری

دمشق(رپورٹنگ آن لائن)شامی صدر احمد الشرع نے ایک خصوصی فرمان جاری کردیا جس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ کرد نژاد شامی شہری شامی قوم کا ایک بنیادی اور اصل حصہ ہیں۔ ان کی ثقافتی و لسانی شناخت کثیر جہتی اور متحد شامی قومی شناخت کا اٹوٹ انگ ہے۔

سال 2026 کے فرمان نمبر 13 میں مزید کہا گیا کہ ریاست ثقافتی اور لسانی تنوع کے تحفظ کی پابند ہے اور قومی خودمختاری کے فریم ورک کے اندر کرد شہریوں کے اپنے ورثے، فنون کے احیا اور اپنی مادری زبان کو فروغ دینے کے حق کی ضمانت دیتی ہے۔ فرمان کے آرٹیکل 3 میں کہا گیا ہے کہ کرد زبان کو ایک قومی زبان تصور کیا جائے گا اور ان علاقوں میں جہاں کردوں کی نمایاں آبادی ہے، وہاں کے سرکاری اور نجی سکولوں میں اسے اختیاری نصاب کے حصے کے طور پر یا ثقافتی تعلیمی سرگرمی کے طور پر پڑھانے کی اجازت ہوگی۔

اسی طرح آرٹیکل 4 کے ذریعے ان تمام قوانین اور غیر معمولی اقدامات کو منسوخ کر دیا گیا جو صوبہ حسکہ میں 1962 کی مردم شماری کے نتیجے میں نافذ ہوئے تھے ۔ یہ بھی طے پایا ہے کہ شام میں مقیم تمام کرد نژاد شہریوں ، جن میں مکتوم القید(جن کا ریکارڈ موجود نہیں تھا( بھی شامل ہیں، کو شامی شہریت دی جائے گی اور انہیں حقوق و فرائض میں مکمل برابری حاصل ہوگی۔آرٹیکل 5 کے تحت 21 مارچ کو نوروز کے تہوار کو پورے جمہوریہ شام میں سرکاری تعطیل ہوگی۔ اسے بہار اور بھائی چارے کے مظہر کے طور پر ایک قومی تہوار تسلیم کیا گیا ہے۔

آرٹیکل 6 کے مطابق ریاست کے میڈیا اور تعلیمی اداروں کو ایک جامع قومی بیانیہ اپنانے کا پابند کیا گیا ہے۔ اس کے تحت قانونا نسلی یا لسانی بنیاد پر کسی بھی قسم کے امتیاز یا اخراج پر پابندی ہوگی اور قومی فتنہ انگیزی پر اکسانے والے کسی بھی شخص کو نافذ العمل قوانین کے مطابق سزا دی جائے گی۔آرٹیکل 7 کے تحت متعلقہ وزارتیں اور حکام اس فرمان کی دفعات پر عمل درآمد کے لیے ضروری ہدایات جاری کرنے کے ذمہ دار ہوں گے۔ شامی صدر نے شام میں موجود کردوں کے نام ایک پیغام بھی جاری کیا جس میں انہوں نے اپیل کی کہ وہ فتنہ انگیز باتوں پر یقین نہ کریں ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جو کوئی انہیں نقصان پہنچائے گا وہ ریاست کا دشمن تصور ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وہ شام کی بہتری، ترقی اور اتحاد چاہتے ہیں۔

اسی بنیاد پر انہوں نے کردوں کے حقوق اور ان کی خصوصیات کی ضمانت دینے والے خصوصی فرمان کا اعلان کیا تاکہ انہیں قانون کے ذریعے تحفظ حاصل ہو اور اس طرح ایک ایسے متحد وطن کی تعمیر میں مکمل شرکت اور محفوظ واپسی کا راستہ کھل سکے جو اپنے تمام بیٹوں کے لیے وسعت رکھتا ہو۔اربیل میں ایک مغربی سفارت کار نے بتایا کہ یہ حکم ننامہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکہ، فرانس اور برطانیہ جیسے اہم بین الاقوامی فریق دمشق اور ایس ڈی ایف کے درمیان حالات کو پرسکون کرنے کے لیے کوشاں ہیں تاکہ کسی بڑے حملے کا راستہ روکا جا سکے جس کے ہمسایہ ممالک پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

احمد الشرع نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ 10 مارچ کو ان کے اور ایس ڈی ایف کے کمانڈر مظلوم عبدی کے درمیان طے پانے والے معاہدے میں وفاقیت کے بغیر ایک متحدہ شام پر اتفاق ہوا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مارچ معاہدے کی پاسداری نہ کرنے کی ذمہ داری اب ایس ڈی ایف پر عائد ہوتی ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ شام خاموش تماشائی نہیں بنا رہے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں دھمکی نہیں دے رہا، میں ایک ایسا شخص ہوں جس نے اپنی آدھی سے زیادہ زندگی جنگ میں گزاری ہے اور دھمکی کمزوروں کے لیے ہوتی ہے۔ میں صرف حقیقت کی وضاحت کر رہا ہوں اور مشورہ دے رہا ہوں۔

نہ تو سیاسی، نہ فوجی اور نہ ہی سکیورٹی صورتحال ایس ڈی ایف کے حق میں ہے۔یہ صورتحال گزشتہ ہفتے حلب شہر کے علاقوں اشرفیہ، شیخ مقصود اور بنی زید میں ایس ڈی ایف اور شامی فوج کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے بعد پیدا ہوئی جس کی وجہ سے ہزاروں لوگ نقل مکانی کر گئے۔ بعد ازاں جنگ بندی اور ایس ڈی ایف کے جنگجوں کے بغیر ہتھیاروں کے شمال مشرق کی طرف نکلنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ لیکن حال ہی میں تنا مشرقی دیہی حلب، خاص طور پر دیر حافر میں منتقل ہو گیا ہے۔ یہاں فوج نے کرد فورسز کے زیر کنٹرول علاقوں میں رہنے والے شہریوں کو ایس ڈی ایف کے ٹھکانوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے کیونکہ وہاں فوجی کمک بھیجی گئی ہے اور اسے بند فوجی علاقہ قرار دیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں