مائیکل مارٹن 36

آئرلینڈ، یورپ اور چین کے تعلقات کی صحت مند ترقی کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے، وزیرِاعظم آئرلینڈ

بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) آئرلینڈ کے وزیرِاعظم مائیکل مارٹن نے چین کا سرکاری دورہ کیا۔ اس دوران انہوں نے چائنا میڈیا گروپ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ وہ 14 برس بعد دوبارہ دورہ چین کو بے حد اہم سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ”میں 2026 میں چین آنے والا پہلا یورپی ملک کا رہنما ہوں، جو آئرلینڈ اور چین کے تعلقات کی مضبوطی کی علامت ہے۔”

وزیرِاعظم مارٹن نے چینی صدر شی جن پھنگ کی تزویراتی بصیرت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک دوراندیش رہنما ہیں، جن کے اصولی مؤقف نہایت واضح ہیں، بالخصوص بین الاقوامی اور عالمی سطح پرانہوں نے کہا کہ آئرلینڈ، یورپ اور چین کے تعلقات کی صحت مند ترقی کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔ ان کے مطابق “میں یورپ میں حقیقی معنوں میں کسی ‘ڈی کپلنگ’ کی خواہش محسوس نہیں کرتا۔ ڈی کپلنگ کوئی قابلِ عمل سوچ نہیں ہے، کیونکہ دنیا کے ممالک فطری طور پر ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں۔”

وزیرِاعظم مارٹن نے پہلی بار 2005 میں چین کا دورہ کیا تھا اور اس کے بعد تین سے چار مرتبہ چین کا دورہ کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین کی جدید کاری کی رفتار حیران کن ہے، چینی صنعت و پیداوار کی صلاحیت مسلسل بڑھ رہی ہے، عوامی نقل و حمل کا نظام تیزی سے ترقی کر رہا ہے، شہروں کی جدید کاری کے عمل کے ساتھ ساتھ غربت میں کمی کا کام بھی مسلسل آگے بڑھ رہا ہے، اور مجموعی طور پر اقتصادی و سماجی ترقی کی رفتار مضبوط ہے۔ ان کے مطابق ہر دورے میں وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ چین کی ترقی اور صلاحیت ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آئرلینڈ، چین کی جانب سے طویل المدتی قومی ترقیاتی حکمتِ عملی کی تشکیل اور اس پر مؤثر عمل درآمد کے عمل کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، بالخصوص پانچ سالہ منصوبہ بندی کا نظام، جس پر عموماً درست اور مؤثر انداز میں عمل کیا جاتا ہے۔

وزیرِاعظم مارٹن نے واضح کیا کہ آئرلینڈ ہمیشہ سےایک چین کی پالیسی کی حمایت کرتا آیا ہے اور آئندہ بھی اسی مؤقف پر قائم رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئرلینڈ نے آغاز ہی سے واضح طور پر ایک چین کی پالیسی کی حمایت کی ہے اور مستقبل میں بھی یہ پالیسی برقرار رہے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں