کیف(رپورٹنگ آن لائن) یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ایک بار پھر نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو)سے لامحدود فوجی امداد کے لیے کہا ہے۔روسی فوج کا مقابلہ کرنے کے انہیں نیٹو کی طرف سے فوجی مدد کی ضرورت ہے۔ اس وقت یوکرین غیر مساوی حالات میں روس کو پسپا کر رہا ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق انہوں نے روس پر فاسفورس بم استعمال کرنے کا الزام لگایا۔انہوں نے کہا کہ لوگوں اور اپنے شہروں کو بچانے کے لیے یوکرین کو بغیر کسی پابندی کے فوجی مدد کی ضرورت ہے۔ جس طرح روس، بغیر کسی پابندی کے، اپنے تمام ہتھیار استعمال کرتا ہے۔
زیلنسکی نے ٹیلی گرام پر اپنے اکائونٹ پر پوسٹ کیے گئے ایک ویڈیو کلپ میں یہ بیان ایک ایسے وقت میں دیا ہے جب نیٹو کے رکن ممالک کے رہ نما برسلز میں ایک غیر معمولی سربراہی اجلاس میں ملاقات کر رہے ہیں۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یوکرین یورپی یونین کا رکن بننے کا حقدار ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ روس کا اگلا ہدف پولینڈ جیسے مشرقی یورپ میں نیٹو کے رکن ہوں گے۔ انہوں نے نیٹو کے سربراہ اجلاس سے خطاب سے پہلے ایک ویڈیو خطاب میں کہا کہ روس مزید آگے بڑھنا چاہتا ہے۔ نیٹو کے مشرقی ارکان، بالٹک ریاستوں کے خلاف اور اس کے بعد یقینا پولینڈ کے خلاف کارروائی کرسکتا ہے۔







