نوید قمر 160

یوریا کو غائب کرنے میں حکومت کا ہاتھ ہے ، نوید قمر

اسلام آ باد (رپورٹنگ آ ن لائن ) پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما نوید قمر نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہمیشہ زراعت کو بحران کا سامنا رہا ، ملک میں یوریا کی قلت ہے یوریا کو غائب کرنے میں حکومت کا ہاتھ ہے، کھاد والا ٹرک کہیں سے گزرتا ہے تو وہاں لوٹ مار شروع ہو جاتی ہے ، زمیندار بلیک میں کھاد خریدنے پر مجبور ہیں ، پنجاب حکومت نے ایک شناختی کارڈ پر ایک بیگ دینے کی پالیسی سے پورے خاندان کو خراب کیا جا رہا ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما نوید قمر نے شازیہ مری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسانوں کے حق میں اکیس اور چوبیس جنوری کو ٹریکٹر مارچ کیا جائے گا ، تمام کسان تنظیموں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ ہمارے اجتجاج میں شریک ہوں ، اکیس کو ساہیوال میں ٹریکٹر مارچ کیا جائے گا ، چوبیس کو پورے ملک میں ٹریکٹر احتجاج کریں گے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما نے کہا کہ جب تک زرعی پیداوار نہیں بڑھے گی ملک ترقی نہیں کر سکتا ، ملک کا دیوالیہ ہو چکا ہے ، کرنٹ اکاونٹ خسارہ کنٹرول سے باہر ہو چکا ہے ، زراعت پر خودکفیل ہونا اصل کام ہے۔

انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں ہمارے اس مقصد میں شریک ہوں ، اپنے مسائل کو اجاگر کرنے کے لئے خود سامنے آنا ہوگا ، یہ سارا احتجاج حکومت پر دبا بڑھانے کے لیے کیا جارہا ہے۔ نوید قمر نے کہا ہے کہ اس ملک میں کاشتکار کو سیکنڈ کلاس سمجھا گیا ہے، ہمارا حق ہے کہ اس معاملے کو اٹھائیں ، اس ملک میں مس مینجمنٹ ہورہی ہے، قدرتی طور ایسا کچھ نہیں ہوا ہے ، اگر شارٹیج کا خیال تھا تو آپ کو وقت پر درآمد کرنا چاہیے تھا۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما نے کہا کہ 27 فروری میں ہم نے لانگ مارچ کا اعلان کررکھا ہے، کسان مارچ بھی اسی کی پہلی کڑی ہے ، انڈیا کا احتجاج مثالی ضرور ہے کیونکہ مودی ہر طرح کے ظلم کی مثال بن چکا ہے ، یہ احتجاج صرف انڈیا نہیں بلکہ یورپ میں بھی ٹریکٹر مارچ ہوچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان ہاس تبدیلی کے حوالے سے ہم مشاورت کا سلسلہ بڑھا رہے ہیں ، ہم نے 27 فروری اور پی ڈی ایم نے 23 مارچ کا اعلان کررکھا ہے ، ہم نے فروری کا اعلان اس لئے کیا کہ مارچ کافی دور ہے، لوگ پریشان ہیں۔ دوسری جانب پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما شازیہ مری نے نوید قمر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ زراعت اہم شعبہ ہے ، منی بجٹ کے خلاف پارلیمنٹ کے اندر اور باہر احتجاج کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہر طریقے سے احتجاج کو جاری رکھیں گے ، ستائیس فروری کے مارچ سے قبل کسانوں کے معاملے کا حل درکار تھا ، کسانوں کے معاملے پر کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں