اقوام متحدہ

ہم سب آج جو بھی ہیں تعلیم کی وجہ سے ہیں،اقوام متحدہ

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے خبر دار کیا ہے کہ دنیا بھرمیں تعلیم کا شعبہ شدید بحران کا شکار ہے اور اس بحران نے نمٹنے کے لئے اس شعبہ کے لئے مطلوبہ فنڈز مختص کرنے اور اس سرمایہ کاری کو سیکھنے کے عمل کا حصہ بنایا جانا ضروری ہے۔ اقوام متحدہ کے زیر اہتمام تین روزہ ایجوکیشن سمٹ کے اختتامی سیشن سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ہم سب آج جو بھی ہیں تعلیم کی وجہ سے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زندگیوں، معیشتوں اور معاشروں کو بدلنے کے لئے ہمیں موجودہ تعلیمی نظام کو بدلنا ہو گا۔ اس موقع پر پاکستان کی وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر نے اپنے جی۔77 اور چین کی نمائندگی کرتے ہوئے جامع، معیاری اور سب ، خاص طور پر لڑکیوں کے لئے مساوی تعلیم کے حوالے سے نتیجہ خیز اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ نوبل انعام یافتہ پاکستانی اور یو این میسنجر فار پیس ملالہ یوسفزئی نے اپنے خطاب میں دنیا بھر میں سکولوں کو لڑکیوں کے لئے محفوظ بنانے اور ہر اک بچے کے لئے علم حاصل کرنے کے حق کے تحفط کا مطالبہ کیا تاکہ بچوں کے لئے مستقبل کو محفوظ بنایا جاسکے۔

سربراہ اجلاس کے اختتام پر جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ اس اجلاس میں شریک 130 ممالک کے رہنمائوں نے تعلیمی نظام کے احیا اور تعلیم کے شعبہ کو درپیش بحران سے نمٹنے کی کوششیں تیز کرنے کا عزم کیا ہے۔ یہ عزم دنیا کے 115 مالک کے رہنمائوں، اساتذہ، طلبہ اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کی سفارشات کو مد نظر رکھ کر کیا گیا ہے۔اعلامیہ میں پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں تعلیم کے بنیادی کردار کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔اقوام متحدہ کے سربراہ نے اس موقع پر اپنے خطاب مزید کہاکہ بہترین وسائل اور سکولوں اور یونیورسٹیوں تک رسائی رکھنے والے امیر لوگ بہترین ملازمتیں حاصل کرلیتے ہیں جبکہ غریب طبقہ خاص طور سے لڑکیاں، بے گھر افراد اور معذور طلبہ کو وہ تعلیمی قابلیت حاصل کرنے میں بہت سے رکاوٹوں کا سامنا ہے جو ان کی زندگیوں میں تبدیلی لا سکتی ہے۔انتونیو گوتیرس نے کہا کہ کورونا وائرس کی عالمگیر وبا نے پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کو دھچکا پہنچایا ہے اور ان میں سب کے لئے مساوی بنیادوں پر معیاری تعلیم کا ہدف سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کمیشن ا?ن دی فیوچر ا?ف ایجوکیشن رپورٹ کارڈ کے مطابق نظام تعلیم کو فرسودہ اور تنگ نظری پر مبنی نصاب اور غیر تربیت یافتہ اور کم تنخواہیں لینے والے اساتذہ پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ تعلیمی نظام طلبہ اور معاشروں کو ناکامی سے دوچار کر رہا ہے۔ مزید برا?ں ڈیجیٹل ذرائع تعلیم تک رسائی میں عدم مساوات نے صورتحال کو مزید سنگین کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کو فرد کی پوری زندگی کے دوران اس کی ترقی اور ذہنی نشو و نما اور خاص طور سے ان کے مسائل کے حل میں کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس موقع پر افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے تمام پابندیاں ختم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے اس موقع پر ماحولیاتی تبدیلوں اور انسانی حقوق کے حوالہ سے تعلیم کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ سربراہی اجلاس سے یونیسیف کی سربراہ کیتھرین رسل ، یو این ایڈز کے سربراہ ونی بائی اینی ایما ، یونیسکو کے سربراہ ا?ندرے ایزولے اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔