جنگ 60

کیا ہمیں ابھی بھی انصاف اور نیکی پر ایمان رکھنا چاہیے؟

تہران (رپورٹنگ آن لائن) ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد یہ سب سے دلخراش اور دکھ بھری تصویر ہے، جو عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لئے کافی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک بیان میں کہا کہ یہ قبریں ان 160 سے زیادہ معصوم چھوٹی بچیوں کے لیے کھودی گئی ہیں جو امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ بمباری میں ایک پرائمری اسکول میں ہلاک ہوئیں۔ ان کے جسم ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے تھے۔ یہی ہے اس “مدد” کی حقیقی تصویر جس کا ٹرمپ نے وعدہ کیا تھا۔غزہ سے لے کر میناب تک (جہاں چھوٹی بچیوں کو بمباری سے ہلاک کیا گیا)، معصوم لوگ بے دردی سے قتل کیے گئے۔

ایک ساتھ بہت سی چھوٹی قبریں، جنہیں دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔اس جہاں کی سفاکی اس سے زیادہ کچھ نہیں ہو سکتی۔
“اس دنیا کو انصاف چاہیے، برائی نہیں”۔ ضمیر رکھنے والے تمام لوگ امن کی اپیل کر رہے ہیں، دعا کر رہے ہیں کہ انصاف آخرکار برائی پر غالب آ جائے گا، اور انسانیت کا درست سسٹم آخرکار دنیا پر حکمرانی کرے گا۔

یکم مارچ سے، پاکستان کے مختلف علاقوں میں امریکہ کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے، جس کے نتیجے میں کم از کم 20 افراد ہلاک اور 100 سے زیادہ زخمی ہوئے۔چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے کہا کہ چین ہمیشہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد اور اصولوں کی پابندی کی وکالت کرتا ہے، اور بین الاقوامی تعلقات میں طاقت کے استعمال کی مخالفت کرتا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کا ایران کے ساتھ مذاکرات کے عمل کے دوران ایران پر حملہ کرنا ناقابل قبول ہے، ایک خودمختار ملک کے رہنما کا کھلم کھلا قتل اور حکومتی تبدیلی کی دھمکیاں دینا ناقابل قبول ہے۔ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

جب بڑی طاقتیں بے لگام ہو جاتی ہیں اور معصوم زندگیوں کو روند دیا جاتا ہے، تو ایسے میں ہمیں ایک بار پھر ایک بوجھل سوال کا سامنا کرنا پڑتا ہے: امن کی پکار اکثر تشدد کی طغیانی کو کیوں نہیں روک پاتی؟ انصاف کے لیے کھڑے ہونے کی آوازیں طاقت و جبر کے سامنے کیوں بے بس دکھائی دیتی ہیں؟ ایران کا موجودہ تنازعہ انسانیت اور دنیا کو دیکھنے کا ایک آئینہ ہے، جو انسانیت اور عالمی نظام کی حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے۔

انسانی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ دنیا کبھی بھی خوبصورت ونڈر لینڈ نہیں رہی۔ جنگل کے قانون کا خاتمہ کبھی نہیں ہوا، اور تشدد فوری نتائج دیتا دکھائی دیتا ہے ۔ امن کی اپیل تلواروں کے سامنے اکثر بے اثر رہتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود، کیا تشدد ہی سچائی ہے؟ کیا انصاف کا کوئی مطلب نہیں رہا؟ہم اس سے اتفاق نہیں کر سکتے۔

انسان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ عارضی طاقت کیا ہے اور دائمی راستہ کیا ہے۔تشدد عارضی طور پر تو غالب آ سکتا ہے، لیکن دلوں کو نہیں جیت سکتا۔ یہ ایک جگہ پر قبضہ کر سکتا ہے، لیکن اسے طویل عرصے تک برقرار نہیں رکھ سکتا۔ انسانی تاریخ کی وہ تمام طاقتیں جو زور آور بن کر چلتی رہیں، آخرکار اپنی ہی تلواروں سے تباہ ہو گئیں۔ یہ کوئی اچانک آنے والا آسمانی انصاف نہیں ہے، بلکہ تشدد اپنے اندر تباہی کا بیج رکھتا ہے — تم خوف کے ذریعے حکومت کرتے ہو، تو دوسرے بھی خوف کے ساتھ ہی بدلہ لیں گے؛ تم طاقت کے ذریعے دباتے ہو، تو نفرتیں زمین میں گہری جڑیں پکڑ لیتی ہیں۔ عارضی بالادستی ہمیشہ کی درستگی نہیں ہے؛ وقتی فائدہ تباہی کے راستے پر پہلا قدم ہے۔

اس سے بھی گہرائی میں جائیں تو، تشدد صرف ایک تاریک دنیا پیدا کر سکتا ہے، اور تاریکی کی فطرت ہی ہر چیز کو نگل لینا ہے۔ ظالم اپنے آپ کو شکاری سمجھتے ہیں۔ وہ نفرت کا چکر شروع کرتے ہیں، اور آخرکار لامتناہی نفرت کے دائرے میں خود ہی نگل لیے جاتے ہیں۔ وہ جو نظام قائم کرتے ہیں جتنا زیادہ ظالمانہ ہوگا، اس کے گرنے پر ان کا انجام بھی اتنا ہی برا ہوگا۔ یہ کوئی فلسفہ نہیں ہے، بلکہ تاریخ بار بار ثابت کرتی ہے کہ یہ ایک اٹل اصول ہے: کلہاڑا نہ صرف دشمن کو کاٹتا ہے، بلکہ آخرکار اپنی ہی بنیاد کو بھی کاٹ دیتا ہے۔

تو پھر، انصاف کی اپیل، اس پر قائم رہنا اور اس کے لیے جدوجہد، کیا واقعی انسانیت کا صحیح راستہ ہے، جو آخرکار برائی پر غالب آ جائے گا؟حقیقی صحیح راستہ کبھی بھی کمزوری اور ہار ماننا نہیں ہے، نہ ہی ظلم سہتے رہنا ہے، بلکہ یہ ہے کہ طاقت ہو مگر اس کا غلط استعمال نہ کیا جائے، تیزی ہو مگر حدود قائم رہیں۔ حقیقی انصاف یہ نہیں ہے کہ مزاحمت نہ کی جائے، بلکہ یہ ہے کہ معصوموں کو ہلاکت میں نہ ڈالا جائے، اور خود اپنے آپ کو اس نفرت کے مجسمے میں تبدیل نہ ہونے دیں جسے آپ نے کبھی برا سمجھا تھا۔ نہ تو وہ کمزور بنیں جو ذبح ہونے کے لیے تیار ہو، اور نہ ہی وہ ظالم بنیں جو معصوموں کا قتل عام کرے۔ راست بازی پر قائم رہنا کسی کو متاثر کرنے کے لیے نہیں ہے، بلکہ اس لیے ہے کہ خود تاریکی میں نہ گم ہو جائیں، اپنی انسانی اور قومی بنیاد کو برقرار رکھیں۔ ایسا شخص اور ایسی قوم ہی اصل معنو ں میں “ہزاروں سال” تک قائم رہنے کی اہلیت رکھتی ہے۔

ہمیں انصاف اور نیکی کے حتمی فاتح ہونے پر یقین رکھنا چاہیے، اس وجہ سے کہ انصاف کی فتح درحقیقت ایک زیادہ خوبصورت دنیا کی تعمیر کرتی ہے، جبکہ تشدد کی فتح اس دنیا کو خطرناک اور تاریک ہی بناتی ہے۔ہمیں پہلے راستے کا انتخاب کرنا چاہیے۔ انصاف کی اپیل اور اس کے لیے جدوجہد ہرگز بے اثر آہیں نہیں ہیں۔ یہ تاریکی میں انسانی ضمیر کی پکار اور اس پر ڈٹے رہنے کا اظہار ہے۔ ظالم آخرکار تشدد اور تاریکی کی لپیٹ میں آ جائیں گے۔ یہ کائناتی انصاف کا سب سے منصفانہ بدلہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں