کراچی(رپورٹنگ آن لائن) پاکستان ٹیم کے آل راؤنڈر شاداب خان ٹی 20 ورلڈ کپ میں کیوں پرفارم نہ کر سکے ثقلین مشتاق نے کہا ہے کہ کھلاڑیوں سے ان کی صلاحیتوں اور کردار کے مطابق درست کام نہیں لیا گیا۔ ایک انٹرویو میں اسپنر ثقلین مشتاق نے شاداب خان کی بھرپور سپورٹ کرتے ہوئے وہ وجوہات بتا دیں جس کی بنا پر وہ ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں میچ وننگ کارکردگی نہ دکھا سکے۔
ثقلین مشتاق جو رشتے میں شاداب خان کے سسر بھی ہیں نے کہا کہ دنیا میں تین قسم کے آل راؤنڈر ہوتے ہیں۔ ایک بولنگ آل راؤنڈر، ایک بیٹنگ آل راؤنڈر اور ایک مکمل آل راؤنڈر،اگر شاداب اور نواز کے اعداد وشمار دیکھیں تو ماضی میں انہوں نے دونوں شعبوں میں اپنی کارکردگی سے پاکستان کو میچز جتوائے ہیں۔ورلڈ کپ میں مائیک ہیسن ان دونوں سے بیٹنگ اور بولنگ دونوں شعبوں میں کارکردگی چاہتے تھے اور اس حوالے سے ان پر اعتماد بھی کرتے تھے تاہم انہیں درست استعمال نہیں کیا گیا۔سابق ورلڈ کلاس اسپنر نے کہا کہ بولنگ میں دونوں ڈیتھ اوور میں نہیں تھے،پاور پلے میں ایک دو بار نواز آیا، تو اگر کھلاڑیوں کا درست استعمال نہیں ہوگا تو بہتر نتائج کیسے ملیں گے۔
ثقلین مشتاق نے کہا کہ کھلاڑیوں سے ان کی صلاحیتوں اور کردار کے مطابق درست کام نہیں لیا گیا، جس کی وجہ سے ٹیم کی یہ کارکردگی رہی۔انہوں نے ایک اور نشاندہی کی کہ آپ چار اسپنر سری لنکا لے کر جا رہے ہو لیکن ایک بھی اسپن بولنگ کوچ نہیں، وہ اپنے مسائل کہاں سے حل کرتے،ایسی ہی تکنیکی غلطیاں کی گئیں، جس سے ٹیم کی کارکردگی پر منفی اثر پڑا۔








