تنویر سرور۔
لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس شمس محمود مرزا نے ڈائیریکٹر جنرل ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ پنجاب محمد علی کی پنجاب انفارمیشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف رٹ پٹیشن ڈسمس کر دی ہے۔

پنجاب انفارمیشن کمیشن نے شہری شہباز اکمل جندران ایڈووکیٹ ہائی کورٹ کی درخواست پر بجٹ کے متعلق ریکارڈ کو خفیہ رکھنے اور درخواست گزار کو ریکارڈ نہ دکھانے پر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی ڈائریکٹر ہیڈ کوآرٹر فضہ شاہ کو پنجاب ٹرانسپرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013 کے سیکشن 15 کے تحت 50 ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنائی تھی۔

فضہ شاہ نے جرمانے کے اس فیصلے اور ریکارڈ انسپکشن کے قانون کو مشترکہ طور پر ڈی جی ایکسائز کے ذریعے چیلنج کیا جہاں معزز عدالت نے ان کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے پنجاب انفارمیشن کمیشن کے فیصلے کو بحال رکھا۔









