نیوز رپورٹر ۔۔۔۔
کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے طلبہ نے ظالمانہ ہوسٹل چارجز کے خلاف احتجاج کی دھمکی دے دی ہے۔

طلبہ کا کہنا ہے، کووڈ 19 کی وجہ سے یونیورسٹی کے ہاسٹل 15ستمبر تک بند رہے۔

تاہم ان سے ہاسٹل کے ہر طرح کے ڈیوز سال بھر کے لئے وصول کیئے جارہے ہیں۔
ہاسٹل کے سالانہ بجلی کے معاوضوں کی ادائیگی کے باوجود طلبا 5 ماہ گھر بیٹھے رہے۔

زرائع کے مطابق ہوسٹل انتظامیہ عام طور پر فی طالب علم 29000 وصول کرتی ہے جو سالانہ فی کمرہ 87000 جبکہ ائیر کنڈیشنز کے استعمال پر الگ سے سالانہ 60 ہزار روپے فی کمرہ وصول کیئے جاتے ہیں۔حالانکہ ائیر کنڈیشنز زیادی سے زیادہ 6 ماہ کے لئے استعمال ہوتا ہے۔جبکہ رواں سال کورونا وائرس کی وجہ سے یونیورسٹی بند رہی اور صرف ایک ماہ کے لئے ہی ائیر کنڈیشنز استعمال ہوسکا۔

ایسے میں طلبہ سے ایک ماہ ائیر کنڈیشنز استعمال کرنے پر 60 ہزار روپے طلب کرنا ظالمانہ ہے۔
زرائع سے یہ بات بھی علم میں آئی ہے کہ طلبہ کو یونیورسٹی کے ہاسٹل وارڈنز کی طرف سے دھمکیاں دی جارہی ہیں کہ اگر ایک دن کے اندر اے سی چارجز ادا نہ کرنے والے طلبہ کے کمرے سیل کر دیئے جائینگے۔
طلبہ نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کےوائس چانسلر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہاسٹل انتظامیہ کی دھمکیوں کا نوٹس لیتےہوئے،پورے سال کی بجائے محض ایک ماہ کے واجبات وصول کرنے کے احکامات جاری کریں۔
بصورت دیگر طلبہ احتجاج پر مجبور ہونگے









