سیکرٹری ایکسائز 290

کروڑوں روپے کے سامان میں ہیرا پھیری،سیکرٹری ایکسائز نے رضوان شیروانی کے خلاف انکوائری چیف سیکرٹری کو بھیج دی۔

شہباز اکمل جندران۔۔

ایڈیشنل ڈائیریکٹر جنرل رضوان اکرم شیروانی کے خلاف انکوائری میں اہم پیش رفت، صوبائی سیکرٹری نے ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کی بجائے کسی دوسرے محکمے سے انکوائری کروانے کے لئے فائل چیف سیکرٹری کو بھیج دی۔

 رضوان اکرم شیروانی
رضوان شیروانی کے خلاف انکوائری ایک شہری کی درخواست پر شروع کی گئی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیاہے کہ رضوان اکرم شیروانی18 -2017لاہور میں میں قائم کردہ سہولت مراکز کے پراجیکٹ ڈائیریکٹر مقرر کئے گئے اور انہوں نےبطور پر اجیکٹ ڈائیریکٹر، Facilitation Centersچار کروڑ روپے سے زائد مالیت کے کمپیوٹر، یوپی ایس، پرنٹر، سکینر، ایل ای ڈی، ائیرکنڈیشنر، فوٹو کاپی کی مشینیں،واٹر ڈسپنسر، فرنیچر اور دیگر اشیا خریدیں۔تاہم اب یہ سہولت مراکز ختم کردیئے گئے ہیں۔اور چار کروڑ روپے مالیت کا یہ سامان مبینہ طور پر خورد برد کرلیا گیا ہے۔

سیکرٹری ایکسائز

درخواست گزار کے مطابق موٹر برانچ لاہور ایڈمن افسر اور ترجمان سفیر عباس کا تحریری موقف ہے کہ موٹربرانچ کو محض 11 ایل ای ڈی، دو عدد سی پی یو، سات پرنٹر، اور محض 12 فرنچر فکسچر پراجیکٹ کی طرف سے موصول ہوئے۔

درخواست گزار نے استدعا کر رکھی ہے کہ پراجیکٹ ڈائیریکٹر سہولت مراکز ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کا ریکارڈ قبضے میں لیتے ہوئے انکوائری کی جائے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

صوبائی سیکرٹری کی طرف سے ایڈیشنل سیکرٹری عمران اسلم کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کی معاملہ چیف سیکرٹری کو بھیج دیا جائے تاکہ کسی افسر سے انکوائری کروائی جاسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں