کراچی(رپورٹنگ آن لائن) جماعت اسلامی پاکستان کے امیرحافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ خطے کی موجودہ صورتحال میں کراچی میں بڑی سرمایہ کاری آنے کا امکان ہے لیکن پیپلز پارٹی کی موجودگی میں کراچی میں کبھی ڈویلپمنٹ نہیں ہوسکتی، وقت آگیا ہے کہ پیپلز پارٹی سے جان چھڑائی جائے، امریکیوں کو سوچنا چاہیے کہ ایک پاگل کیسے ان کا صدر ہے، عوام پیٹرول کے ہر لیٹر پر حکومت کو 225 روپے اضافی ادا کر رہے ہیں، پیٹرول کی قیمتیں مزید کم کی جائیں، بجلی پر ٹیکس لگانے کا کہا جا رہا ہے، اس پر ہم احتجاج کریں گے،آئی پی پیز سے معاہدے ختم ہونے چاہئیں۔
ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کراچی کو تباہ کرنا بین الاقوامی ایجنڈا تھا، جب ہمارا شہر تباہ کیا جارہا تھا تو کوئی اور شہر ڈویلپ ہو رہا تھا۔ دو روز قبل کراچی میں 38 ملی میٹر کی بارش نے ایک بار پھر پیپلز پارٹی کی حکومت کو ایکسپوز کردیاہے۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ کے ایم سی میں قبضہ میئر کراچی کیخلاف تحریک عدم اعتماد کی کارروائی کو تیز کیا جائے گا۔ کرپشن اور لوٹ مار کی وجہ سے پورا شہر ٹوٹ پھوٹ اور بد حالی کا شکار ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جن قوتوں نے پیپلز پارٹی کو مسلط کیا ہوا ہے ان سے کہوں گا کہ وہ پیچھے ہٹ جائیں اور عدم اعتماد کا عمل سیاسی طور پر مکمل ہونے دیں کیونکہ پوری قوم کا نقصان ہورہا ہے، اسٹیبلشمنٹ کو کہوں گا کہ وہ اب اپنا پھیلایا ہوا گند صاف کرے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے میں ترکیہ اور ایران کو بھی شامل کرنا چاہئے، جنگ ختم ہونے کے بعد ایران کے ساتھ آزادانہ تجارت کرنی چاہئے، گیس پائپ لائن منصوبہ بھی مکمل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر اب گالیاں دے رہا ہے اور پوری دنیا تماشہ دیکھ رہی ہے، آدھے سے زیادہ امریکی عوام یہ کہہ رہی ہے کہ یہ پاگل ہے، تو ایسے شخص کو کیسے صدر کی عہدے پر رکھا ہوا ہے؟۔ اقوام متحدہ کو اس صورتحال کا نوٹس لینا چاہئے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ایران کو سلام ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کا مقابلہ کر رہا ہے، پاکستان کو اس سلسلے میں کردار ادا کرنا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ اسرائیل اب فلسطینیوں کو پھانسیاں دے گا، اس پر کوئی بات نہیں کر رہا۔امیرجماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت اچھا قدم اٹھاتی ہے تو ہم اس کی حمایت کرتے ہیں، یہ موقع ہے کہ ہمیں غزہ پیس بورڈ سے باہر آنا چاہیے۔امیرِ جماعتِ اسلامی نے کہا کہ، پاکستان میں کونسی انڈسٹری ہے جو سامنے آ کر کھڑی ہو گی؟انہوں نے کہا کہ 5 لاکھ 38 ہزار ڈالرز پاکستانیوں کو ادا کرنے پڑتے ہیں، پیٹرول کی قیمتیں مزید کم کی جائیں، بجلی پر ٹیکس لگانے کا کہا جا رہا ہے، اس پر ہم احتجاج کریں گے۔









