کاشف کلیم 289

کاشف کلیم نے رشوت کی آفر کی نہ ہی کمپیوٹر سے ڈیٹا ڈیلیٹ ہو سکتا ہے۔سسٹم اینا لسٹ محمد سلیم

رپورٹنگ آن لائن۔

ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ لاہور کے جوہرٹاون آفس میں رواں سال کے پہلے پانچ ماہ کے دوران ایک ہزار سے زائد آٹو رکشے بوگس کوائف کے تحت رجسٹرڈ کرنے کے معاملے میں
جونیئر کمپیوٹر آپریٹر کاشف کلیم کے مبینہ طور پر خود کو بچانے کے لیئے ہاتھ پاوں مارنے کے حوالےسے خبر شائع ہونے پر ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ کوآرٹرز میں تعینات سسٹم اینالسٹ محمد سلیم کا ردعمل سامنے آیا ہے۔
بوگس فیڈنگ
جس میں محمد سلیم کاکہنا ہے کہ ان کے حوالے سے کاشف کلیم سے رشوت لینے کا الزام بے بنیاد ہے۔ایک بار جو ڈیٹا کمپیوٹر میں فیڈ ہو جاتا ہے وہ ڈیلیٹ نہیں کیا جاسکتا۔
بوگس فیڈنگ
محمد سلیم کہتے ہیں
بوگس فیڈنگ
1. میرے متعلق معلومات درست نا ہی
2. اس معاملہ سے کہیں پہلے کی بات شائع کی گئی ہے۔
3. سسٹم میں کہیں بھی ڈیلیٹ کرنے کی گنجائش موجود نہ ہے ۔ کسی بھی آفیسر ، اہلکار بشمول میرے پورے پنجاب میں ڈیلیٹ کا کوئی آپشن موجود نہ ہے ۔

جے سی او کاشف کلیم پر الزام ہے کہ اس نے یکم جنوری 2022 سے 31 مئی 2022 تک محض پانچ ماہ کے دوران این او سی اور لائسنس نہ رکھنے والی مختلف کمپنیوں کے ایک ہزار سے زائد آٹو رکشے این او سی اور valid licence رکھنے والی آٹو رکشہ مینو فیکچرنگ کمپنی تیز رفتار(Tez Raftar) کے نام سے غیر قانونی طور پر رجسٹرڈ کردیئے ہیں۔جس سے ان ایک ہزار سے زائد آٹو رکشوں کی قانونی حیثیت ختم ہو کر رہ گئی یے کیونکہ رکشے کسی دوسری کمپنی نے تیار کئے ہیں جبکہ ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کے کمپیوٹر ریکارڈ میں انہیں تیز رفتار کے نام سے فیڈ کیا گیا ہے۔جس سے عملی طورپر سادہ لوح غریب شہریوں کے یہ آٹو رکشے جعلی ہوگئے ہیں۔
بوگس فیڈنگ
یہی نہیں بلکہ ان آٹو رکشوں کی رجسٹریشن کے وقت کلاس بھی تبدیل کی گئی ہے۔جس سے قومی خزانے کو بھی بھاری نقصان کا سامنا ہے۔
یہ بھی الزام ہے کہ مذکورہ جونئیر کمپیوٹر آپریٹر کاشف کلیم نے VICS کی بجائے ان ایک ہزار آٹو رکشوں کے بوگس فزیکل فٹنس سرٹیفکیٹ بھی لف کئے ہیں۔جس سے پاسنگ کی مد میں بھی خزانے کو بڑا نقصان پہنچایا گیا ہے۔

یہ بھی الزام ہے کہ Three Seater اور موٹر سائیکل کے طوپر رجسٹرڈ کیئے جانے والے ایک ہزار سے زائد آٹو رکشوں کی بڑی تعداد تھری سیٹرز کی بجائے Seven Seater ہے۔جن کی قانون کے مطابق رجسٹریشن ہو ہی نہیں سکتی۔لیکن مذکورہ جونئیر کمپیوٹر آپریٹر نے دھڑلے سے یہ غیر قانونی اور بوگس کارروائی کی ہے۔

اور متعلقہ کمپنیوں کے لائسنسوں اور این او سیز کی تجدید و اجرا کی مد میں وفاق و صوبائی اداروں کو موصول ہونے والے کروڑوں روپے کے ریونیو کا بھی نقصان کیا گیا ہے۔

جبکہ جعلسازی سامنے آنے پر متعلقہ ایم آر اے زاہد حسین نے جونئیر کمپیوٹر آپریٹر کاشف کلیم کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے اس سے 3 یوم کے اندر جواب طلبی کر رکھی یے۔لیکن مذکورہ شخص اسے جواب دینے کو تیار نہیں ہے۔

ادھر ذرائع نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ جونئیر کمپیوٹر آپریٹر کاشف کلیم نے فی کس آٹو رکشہ بوگس رجسٹریشن کے عوض 20 ہزار روپے رشوت موصول کی ہے۔ اور اس کے اس غیرقانونی عمل میں وہ افسروں کو بھی مبینہ طورپر حصہ دیتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جعلسازی کا علم ہونے کے باوجود کوئی بھی افسر اس کے خلاف کارروائی نہیں کر رہا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں