شہبازاکمل جندران۔
ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں گاڑیوں کی رجسٹریشن و ٹرانسفر کے پرانے نظام MVRS کی جگہ لا یا جانے والا نیا نظام سردست مکمل طور پر آپریٹ نہیں کیا جاسکا۔

ادارے کے ڈائیریکٹر جنرل محمد علی اور صوبائی سیکرٹری مسعود مختار ایک ماہ سے زائد کا وقت گزرنے کے بعد بھی عوام کو ریلیف دینے میں ناکام رہے ہیں۔
جبکہ مجموعی طور پر ریونیو خسارہ بھی دو ارب روپے سے زائد بتایا جارہا ہے۔

ذرائع کے مطابق سابق نظام کے تحت صوبے بھر میں سنگل بائیومیٹرک کروانے والے کئی ہزار گاڑی مالکان اور شو روم مالکان کے چالان اور بائیومیٹرک ری ویپمڈ نظام نے خود بخود کینسل کر دئیے ہیں اور ایسے افراد خصوصا” گاڑی خریدنے والےسخت پریشانی کا شکار ہیں کیونکہ ان کی ادا شدہ رقوم اور سنگل بائیومیٹرک کا سٹیٹس ہوا میں یے۔

اسی طرح ری ویمپڈ سسٹم کے تحت متعارف کروایا جانے والا VSI )وہیکلز سیلز انفارمیشن)فیچر عوام کے لئے بہت بڑا خطرہ بننے کا اندیشہ بتایا جارہا ہے جس میں گاڑی بیچنے والے کی بائیومیٹرک کے بعد گاڑی کا سٹیٹس اوپن رہتا ہے اور خریدار کی بجائے کوئی بھی بائیومیٹرک کرکے گاڑی کا نیا مالک بن سکتا ہے۔
اسی طرح ری ویپمڈ نظام میں ADR کا نظام ہی ختم کر دیا گیا ہے۔
ری ویمپڈ نظام میں کسی عدالت حکم کے تحت گاڑی کی ملکیت کو ریورس یا تبدیل کرنے کا طریقہ کار بھی ختم کر دیا گیا ہے۔
یہی نہیں بلکہ ری ویپمڈ نظام میں کسی شخص کا نام ، ای میل ایڈریس، ٹیلی فون نمبر یا گھر کا پتہ بھی درست نہیں کیا جاسکتا۔جس سے عوام الناس کے ساتھ ساتھ محکمے کے ملازمین بھی سر پکڑ کر رہے گئے ہیں۔
اسی طرح نئے نظام میں ایم آر اے کے پاس فیز تبدیل کرنے یا کوئی بھی اپلیکیشن کینسل کرنے کا اختیار بھی نہیں رکھا گیا۔جس کے بعد ایم آر اے کسی اپلیکیشن کی ضروری کینسیلیشن کی صورت بے بس ہوگیا ہے۔









