رپورٹنگ آن لائن۔
ڈائریکٹر جنرل ایکسائز اینڈ ٹیکسشن پنجاب محمد علی نے ایک ایسا قدم اٹھایا ہے۔جس سے ملازمین رشوت لینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
ڈی جی ایکسائز کے حکم پر صوبے کے تمام ملازمین کی بائیومیٹرک حاضری کا سسٹم شروع کر دیاگیا ہے۔
تاہم اس سلسلے میں بائیو میٹرک ڈیوائسسز کی قیمت ملازمین سے وصول کی جارہی ہے۔
اور تمام اضلاع میں بائیومیٹرک ڈیوائسز جو 20 سے 30 ہزار روپے میں مل جاتی ہیں۔
ان کے لیے ووبروس نامی کمپنی کو ستر ہزار روپے فی ڈیوائس کا ٹھیکہ دیا گیا ہے۔

اور ان ڈیوائسز کے بل کی ادائیگی متعلقہ دفاتر کے ذمے کی گئی ہے۔
نصب ہونے والی بائیومیٹرک ڈیوائسز کی خریداری اور تنصیب کے لیئے نہ تو بجٹ میں رقم جاری گئی، نہ ہی بجٹ میں پہلے سے رقم موجود ہے۔
او ملازمین پر پریشر ڈالا جا رہا ہےکہ ڈیوائس کی قیمت ملازمین جیب سے ادا کریں۔
جبکہ ملازمین کا کہنا ہے کہ جیب سے رقم ادا کرنے کی صورت میں وہ شہریوں سے رشوت لیں گے اور محکمے کی “نیک نامی” میں خاطر خواہ اضافہ کرینگے۔









