ایکسائز ڈیپارٹمنٹ 357

ڈی بی اے اور پروگرامر،ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کے لیئے چیلنج بن گئے۔

شہبازاکمل جندران۔۔

ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں فرائض انجام دینے والے ڈیٹا بیس ایڈمنسٹریٹراور پروگرامر محکمے کے لئے چیلنج بن گئے ہیں۔
ایکسائز ڈیپارٹمنٹ
بتایا گیا ہے کہ 1995میں ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں گاڑیوں کے ڈیٹا کو کمپیوٹرائزڈ کیا گیا تو ڈیٹا انٹری آپریٹرز، انسپکٹرز اور موٹر رجسٹرنگ اتھارٹیز کے وقتا”فوقتا” پاسورڈز جنریٹ کرنے ، انہیں مختلف نوعیت کی مخصوص کمپیوٹر Access دینے، ان ملازمین کے کمپیوٹرائزڈ عمل پر چیک اینڈ بیلنس رکھنے، کمپیوٹرائزڈ ڈیٹا کو محفوظ بنانےاور ٹائم ٹو ٹائم عوامی سہولت کی خاطر نئی کمپیوٹرائزڈ اصلاحات متعارف کروانے کے لئے ڈی بی ایز اور پروگرامرز کی خدمات حاصل کی گئیں۔
ایکسائز ڈیپارٹمنٹ
لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان کمپیوٹر ماہرین کی خدمات سےاستفادہ کرتے ہوئے جاں ایک طرف مثبت نتائج حاصل کیے گئے وہیں چیک اینڈ بیلنس کی عدم موجودگی میں یہ ڈیٹا بیس ایڈمنسٹریٹراور پروگرامر اب محکمے کے لئے چیلنج بن گئے ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں کمپیوٹر(سسٹم) استعمال کرنے والے ہر چھوٹے بڑے ملازم کی کمپیوٹرائزڈ لاگ ہسٹری جنریٹ ہوتی ہے۔لیکن حیران کن طورپر ڈی بی ایز، پروگرامرز اور سسٹم اینالسٹ کی طرف سے محکمے کا کمپیوٹر استعمال کرنے پر کسی قسم کی لاگ ہسٹری Generate ہی نہیں ہوتی۔

ڈی بی ایز، پروگرامرز اور سسٹم اینالسٹ محکمے کے کمپیوٹر پر بیٹھ کر اچھا کریں یا برا، جعلسازی کریں یا نہ کریں ان کا ریکارڈ کمپیوٹر میں باقی نہیں رہتا۔

ذرائع کے مطابق محکمے کے تمام ڈائیریکٹر، ایم آر ایز اور ڈی ای او، جے سی اوز چاہتے ہیں کہ جس طرح ان کے کمپیوٹرز کی لاگ ہسٹری ڈیجیٹل ریکارڈ کا حصہ رہتی ہے اسی طرح ڈی بی ایز، پروگرامرز اور سسٹم اینالسٹ کی لاگ ہسٹری بھی ریکارڈ میں دستیاب ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں