رپورٹنگ آن لائن۔
ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ پنجاب کا ری ویپمڈ کمپیوٹر سسٹم معمول کے بہاو میں نہ آ سکا۔
محکمے بھر کے اور خصوصا” لاہور کے ڈیٹا بیس ایڈمنسٹریٹرز نے نئے سسٹم کی آڑ میں کھلے عام رشوت وصولی شروع کر رکھی ہے۔
ذرائع کے مطابق ری ویپمڈ کمپیوٹر سسٹم خود کار طریقے سے انسپکٹروں میں ڈاک کی تقسیم میں کامیاب نہیں ہوسکا جس کا فائدہ DBAs اٹھا رہے ہیں اور انہوں نے کہیں 50 روپے فی فائل اور کہیں پوسٹ ٹرانزکشن کی ڈاک کی فراہمی پر لمپ سمپ رشوت لینا شروع کر رکھی ہے۔
ذرائع کے مطابق لاہور میں محکمے کے DBAs (ڈیٹابیس ایڈمنسٹریٹرز) پوسٹ ٹرانزکشن کی ڈاک مخصوص انسپکٹروں کے لاگ ان پر لینڈ کرکے بڑی دیہاڑی لگا رہے ہیں۔
ڈی ایچ اے موٹر برانچ میں پوسٹ ٹرانزکشن کی نمایاں ڈاک مہدی نامی انسپکٹر کے فیز پر لینڈ کرتی یے فرید کوٹ آفس میں نذیر بھٹی جبکہ جوہرٹاون آفس میں محمد نوید کی فیز پر زیادہ ڈاک بھیجی جاتی ہے جبکہ دیگر انسپکٹر دن بھر ہاتھ پے ہاتھ دھرے بیٹھےرہتے ہیں۔
بعض انسپکٹروں نے نام سامنے نہ لانے کی درخواست پر بتایا کہ ڈی بی ایز نے ری ویپمڈ نظام کے تحت منڈی لگا رکھی ہے اور جو انسپکٹر رشوت دیتا یے اسے زیادہ ڈاک ملتی ہے۔جبکہ رشوت نہ دینے والے انسپکٹر فارغ بیٹھے رہتے ہیں۔
دوسری طرف ڈائیریکٹر جنرل ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب، تمام تر صورتحال سے بخوبی آگاہ ہونے کے باوجود بے بس ہیں اور کرپشن کو روک نہیں پارہے۔









