چین 18

چین کی درآمدات میں سال بہ سال 2.2 فیصد اضافہ

بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) رواں سال کے پہلے سات ماہ میں چین کی درآمدات میں سال بہ سال 2.2 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ یہ مسلسل پانچواں مہینہ ہے کہ چین کی درآمدی ترقی برآمدی ترقی سے تیز رہی ہے۔ رواں سال کی پہلی ششماہی میں چین کی درآمدات 10.74 ٹریلین یوآن تک پہنچ گئیں، جو تاریخ میں اسی عرصے میں پہلی بار 10 ٹریلین یوآن سے تجاوز ہ کر گئیں۔

چین نے 63 ممالک کے لیے “زیرو ٹیرف” پالیسی نافذ کی ہے اور مجموعی ٹیرف کی اوسط شرح کو 7.3 فیصد تک کم کر دیا ہے۔ چین تقریباً 80 ممالک اور خطوں کے لیے ایک اہم برآمدی منڈی بن چکا ہے اور 5.1 فیصد کی اوسط سالانہ شرحِ نمو کے ساتھ مسلسل 17 سال سے دنیا کی دوسری سب سے بڑی درآمدی منڈی ہے۔

ایک جانب چین کی وسیع مینوفیکچرنگ انڈسٹری کی ضروریات کے باعث لوہے کی کانوں سے حاصل ہونے والے خام مال اور الیکٹرانک پرزوں سمیت بڑی مقدار میں مختلف اشیا درآمد کی جا رہی ہیں تو دوسری جانب افریقی ممالک کے لیے زیرو ٹیرف پالیسی کی بدولت افریقی کافی بینز سمیت دیگر مصنوعات کی چین میں درآمدی مسابقت اور لاگت کے لحاظ سے کشش میں اضافہ ہوا ہے۔ چین کی وسیع مارکیٹ کی مضبوط کشش نے دنیا بھر سے اعلیٰ معیار کی اشیائے خورونوش اور دیگر مصنوعات کو بھی اپنی جانب متوجہ کیا ہے۔

21 اگست کو، 9ویں چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو کے آغاز میں 75 دن باقی رہ گئے ہیں۔ چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو بیورو کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، 104 ممالک اور خطوں کی 1,300 سے زائد کمپنیوں نے کاروباری نمائش میں شرکت کے لیے رجسٹریشن کرائی ہے، جبکہ نمائش کا مجموعی رقبہ 3 لاکھ 50 ہزار مربع میٹر سے زیادہ ہے۔ رواں سال نمائش میں ایشیا اور افریقہ کی مصنوعات کے لیے ایک خصوصی زون بھی قائم کیا گیا ہے، جس کا مقصد گلوبل ساؤتھ کے ممالک سے چین میں اشیا کی درآمد کو مزید فروغ دیناہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں