بلومبرگ 23

چین “چائنا اپرچونٹی 2.0″کے ذریعے عالمی ترقی میں مزید نئی توانائی فراہم کرتا رہے گا، چینی میڈیا

بیجنگ (نیوز ڈیسک) امریکی خبر رساں ادارے بلومبرگ سمیت دیگر بین الاقوامی میڈیا نے چین کی مصنوعی ذہانت کی ترقی پر خصوصی توجہ دی ہے۔ ان رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ چین نے ایسا قابلِ تقلید نظام تشکیل دے دیا ہے، جس کے تحت عالمی معیار کے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز تیار کیے جا سکتے ہیں۔

گزشتہ آٹھ ہفتوں کے دوران چین کی مصنوعی ذہانت کی صنعت نے مختلف شعبوں میں نمایاں پیش رفت کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ دراصل چین میں “پیمانے پر جدت” کی زندہ تصویر ہے۔ آج “پیمانے پر جدت” عالمی صنعتی تبدیلی کا ایک اہم محرک بن چکی ہے۔ بین الاقوامی حلقوں میں عمومی طور پر یہ رائے پائی جاتی ہے کہ چین نے اپنی وسیع مارکیٹ، مکمل صنعتی نظام، تیز رفتار صنعتی تبدیلی کی صلاحیت اور کھلے تعاون پر مبنی ماحولیاتی نظام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس اہم شعبے میں دنیا کے لیے قیمتی تجربات اور بصیرت فراہم کی ہے۔

حال ہی میں جنوبی کوریا کی ایشیا نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ چین نہ صرف اپنی معیشت کی تبدیلی اور ترقی کے عمل کو تیز کر رہا ہے بلکہ عالمی معیشت کی ترقی اور بین الاقوامی تعاون کے لیے بھی نئے مواقع پیدا کر رہا ہے۔ مسلسل جاری “جدت کا فائدہ” دراصل “چائنا اپرچونٹی 2.0” کی ایک واضح مثال ہے۔جدت لوگوں کی بہتر زندگی کی خواہشات کی عکاسی کرتی ہے۔

یورپ کو ایئر کنڈیشنرز سمیت گرمی سے بچاؤ کی مصنوعات کی برآمد سے لے کر جنوبی کوریا، آسٹریلیا اور جنوب مشرقی ایشیا میں نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کی مقبولیت تک، اور علاج کے اخراجات میں نمایاں کمی لانے والی نئی ادویات کی دستیابی تک، چینی جدت کے ثمرات دنیا کے مختلف حصوں تک پہنچ رہے ہیں اور زیادہ سے زیادہ ممالک کو ترقی کے مواقع سے مستفید ہونے کا موقع فراہم کر رہے ہیں۔ تخمینوں کے مطابق، 2012 سے 2025 کے درمیان چینی کمپنیوں نے 24 ترقی پذیر معیشتوں میں مقامی برآمدات کی قدر میں تقریباً پانچ گنا اضافہ کیاہے۔

چین کی جدت دنیا کے لیے دھچکا ہے یا موقع؟ اس کا جواب حقائق پہلے ہی دے چکے ہیں۔ بعض مغربی ممالک کی جانب سے چین کو بدنام کرنے اور دباؤ ڈالنے کی کوششیں اسے اعلیٰ معیار کی ترقی کے لیے جدت کا عمل جاری رکھنے اور کھلے تعاون کے ذریعے مختلف ممالک کی مشترکہ ترقی کو فروغ دینے سے نہیں روک سکتیں۔ چین “چائنا اپرچونٹی 2.0 ” کے ذریعے عالمی ترقی میں مزید نئی توانائی فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں