تجارتی آرڈر 42

چین عالمی ترقی کے لیے یقین کی علامت بن گیا

بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) اس وقت عالمی اقتصادی اور تجارتی آرڈر کو بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، جہاں بڑھتے ہوئے ٹیرف، غیر یقینی صورتحال اور جغرافیائی سیاسی تناؤ ،سب ایک دوسرے سے جڑے نظر آتے ہیں ۔ اس پیچیدہ صورت حال کے تحت سب کی توجہ اس جانب ہے کہ عالمی معیشت کے مستقبل کی سمت کیا ہوگی ۔

اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت اور ترقی کی سیکرٹری جنرل ربیکا گرینسپان نے خبردار کیا ہے کہ 2026 میں عالمی معیشت کے لیے سب سے بڑا چیلنج “غیر یقینی صورتحال” ہے، یہاں تک کہ قابل اعتماد پیش گوئی بھی غیر حقیقی امید بن چکی ہے ۔ اس پس منظر میں، چین اپنے عملی اقدامات اور کھلے پن کے وعدوں کے ذریعے، اس غیر یقینی دنیا کو نایاب “استحکام” فراہم کرنا جاری رکھے ہوئے ہے، جو موجودہ ہنگامہ خیز منظر نامے میں توازن کی ایک اہم قوت بن رہا ہے۔

چین اور اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت اور ترقی نے ترقی پذیر ممالک میں صلاحیتوں کی تعمیر میں مدد کے لیے اگلے پانچ سالوں کے لیے ایک معاہدہ کیا ہے۔ مختلف ممالک کے درمیان ترقیاتی فرق عالمی معیشت کا ایک بڑا مسلہ ہے۔ تاریخی تجربے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اقتصادی جھٹکے عموماً سب سے پہلے کم ترقی یافتہ ممالک اور کمزور معیشتوں کو نقصان پہنچاتے ہیں اور پھر سلسلہ وار اثرات کے ذریعے عالمی سطح پر پھیلتے ہیں۔

چین کے اقدامات کی مثال نہ صرف ” مچھلی دینے کے بجائے مچھلی پکڑنا سکھانے” کی دانشمندی کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ عالمی معیشت کی بنیاد کو ساختی سطح پر بھی مضبوط کرتے ہیں۔ یہ اقدامات منظم صلاحیت سازی کے تعاون کے ذریعے شمال اور جنوب کے درمیان فرق کم کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں ، اور یوں عالمی ترقی کے نظام کے استحکام کو برقرار رکھا جا سکتا ہے ۔

ہم ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جہاں کثیر قطبیت ایک حقیقت ہے، لیکن کثیر قطبیت کا مطلب تعاون کا خود بخود ہونا نہیں ہے ۔جیسا کہ اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت اور ترقی کی سیکرٹری جنرل ربیکا گرینسپان کا کہنا ہے کہ “کثیر جہتی ایک انتخاب ہے۔” کثیر الجہتی فریم ورک کی پابندی کے بغیر کثیر قطبیت تقسیم اور تصادم میں بدل سکتی ہے۔ اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی ادارے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن جیسے کثیرالجہتی اداروں میں چین کا مسلسل تعمیری اثر و رسوخ اس انتخاب کے لیے پختہ عزم ہے۔

کم ترین ترقی یافتہ ممالک پر صفر ٹیرف کے نفاذ سے لے کر گلوبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو اور گلوبل سکیورٹی انیشی ایٹو جیسی انٹرنیشنل پبلک پراڈکٹ کی ایک سیریز تک، چین نے ٹھوس اقدامات کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ کثیر قطبی دنیا میں، بڑے ممالک کی ذمہ داری اونچی دیواریں کھڑی کرنے کے بجائے پلوں کی تعمیر ہے۔

اعداد و شمار کی زبان سب سے طاقتور زبان ہے ۔ چین میں امریکن چیمبر آف کامرس کے سروے سے پتہ چلتا ہے کہ چین میں نصف سے زیادہ امریکی کمپنیوں نے گزشتہ سال خاطر خواہ منافع حاصل کیا اور 70 فیصد سے زیادہ کمپنیوں نے چین میں اپنے کاروبار جاری رکھنے کا ارادہ ظاہر کیا جب کہ تقریباً 60 فیصد کمپنیاں چین میں اپنی سرمایہ کاری بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ 2025میں چین کی جی ڈی پی نے 5 فیصد شرحِ نمو کے ساتھ 140 ٹریلین یوآن سے تجاوز کیا ۔ اس سے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی چین کی وسیع مارکیٹ اور اختراعی پیداواری صلاحیت کے “ڈبل انجن” کے بارے میں امید کو مزید تقویت ملی ہے ۔

یہ حقائق اجتماعی طور پر ایک سادہ لیکن گہری سچائی کو واضح کرتے ہیں کہ چین میں موجود غیر ملکی کمپنیوں کی کامیابی اس اصول کی واضح مثال ہے کہ “تعاون سے دونوں فریقوں کو فائدہ ہوتا ہے۔” چینی مارکیٹ کوئی زیرو سم کھیل کا میدان نہیں ، بلکہ مشترکہ ترقی کے لیے ایک زرخیز زمین ہے۔

اس سال پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے آغاز کا سال ہے، اور چین کی معیشت ایک نئے نقطہ آغاز پر کھڑی ہے۔ چین اپنی اعلیٰ معیار کی ترقی کے ذریعے عالمی معیشت کے لیے ٹھوس مدد فراہم کرتے ہوئے مستحکم کردار ادا کرتا رہے گا۔ چین کا “ترقی کا نخلستان” ایک پیچیدہ اور ہمیشہ بدلتے ہوئے ماحول میں اپنی لچک کو برقرار رکھے گا۔ چین کا “جدت کا گہوارہ” نئے معیار کی پیداواری صلاحیت کے ساتھ عالمی ترقی کو آگے بڑھاتا رہے گا۔

چین نے دنیا بھر کی کمپنیوں کو “مواقعوں کی جو فہرست” دی ہے اسے ٹریلین یوان سطح کی مارکیٹ کی حمایت حاصل ہے جسے سبز تبدیلی، ڈیجیٹل تبدیلی، اور کھپت کی اپ گریڈنگ کی مدد حاصل ہے ۔یہ منافع اشتراک کے عنصر کا حامل ہے جو چین کے عالمی صنعتی چین میں گہری شمولیت کے پختہ انتخاب سے آیا ہے، اور یہ تعاون کے نیٹ ورک کے ذریعے تمام شرکاء کو فائدہ پہنچائے گا۔

جیسا کہ پہلے بھی ذکرہوا کہ ایک ایسے دور میں جہاں پیش گوئی ایک غیر حقیقی امید بن گئی ہے، چین جو یقین فراہم کرتا ہے وہ مستقبل کی پیش گوئی کرنے کی صلاحیت سے نہیں بلکہ کھلے پن، تعاون اور ترقی کے اصولوں پر عمل کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ استحکام کھلے پن کو وسعت دینے، منظم کثیرالجہتی ادارہ جاتی شرکت ، ترقی پذیر ممالک کے لیے بامعنی حمایت، اور تمام کاروباروں کے لیے مساوی مواقع فراہم کرنے کی مسلسل کوششوں میں جھلکتا ہے۔ عالمی معیشت کی مستقبل کی سمت اب بھی غیر یقینی صورتحال سے بھرپور ہو سکتی ہے،

لیکن چین دنیا کو غیر یقینی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اپنی مستحکم ترقی اور عملی اقدامات کے ذریعے ایک رہنمائی فراہم کر رہا ہے کہ تعاون کے ذریعے غیر یقینی حالات کا مقابلہ کیا جا ئے اور جیت جیت کے ذریعے پائیدار ترقی حاصل کی جا ئے ۔یہ راستہ ان تمام ممالک کے لیے قابلِ قدر ہے جو مشترکہ ترقی کے لیے مل کر آگے بڑھنے کا عزم رکھتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں