چائنا 16

چینی نئے سال کے دوران “چینی بننے” کے رجحان میں اضافہ

بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن)چائنا میڈیا گروپ کے تحت سی جی ٹی این کی جانب سے دنیا بھر کے نیٹیزنز کے لئے کرائے گئے ایک تازہ سروے کے مطابق 80.8فیصد جواب دہندگان کا ماننا ہے کہ چینی ثقافت یک طرفہ ترسیل سے نکل کر وسیع پیمانے پر قبولیت میں تبدیل ہو گئی ہے اور وہ چینی نئے سال کے دوران “چینی بننے” کے منتظر ہیں۔

اس سال جشن بہار کی تعطیلات کے دوران، غیر ملکی سیاحوں کی چین آنے والی پروازوں کی بکنگ میں سال بہ سال بنیاد پر چار گنا سے زیادہ اضافہ ہوا۔ آسٹریلیا، کینیڈا اور برطانیہ کے سیاحوں کی جانب سے بکنگ میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جبکہ جنوبی کوریا کے سیاحوں کی بکنگ میں سال بہ سال 95 فیصد کا اضافہ ہوا۔ اسپین، نیدرلینڈز اور اٹلی جیسے یورپی ممالک سے بکنگ میں دو گنا سے زیادہ کا اضافہ ہوا۔

سروے میں شامل95.1 فیصد جواب دہندگان نے چینی نئے سال کے بارے میں جاننے میں گہری دلچسپی ظاہر کی ۔ 95 فیصد جواب دہندگان کا خیال تھا کہ یونیسکو کے غیر مادی ثقافتی ورثے کی فہرست میں چینی نئے سال کی کامیاب شمولیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا میں چینی ثقافت کو تیزی سے قبول اور سراہا جا رہا ہے۔ 86.7 فیصد جواب دہندگان چین میں چینی نیا سال منانے کے منتظر ہیں۔ سروے سے یہ بھی ظاہرہوا ہے کہ 92.1 فیصد جواب دہندگان کا ماننا ہے کہ فیشن کے جدید عناصر کے ساتھ گہری اور دیرینہ چینی روایتی ثقافت کا انضمام انہیں ایک مانوس ثقافتی تجربہ فراہم کرتا ہے۔ جبکہ 88.2 فیصد جواب دہندگان کا خیال تھا کہ چینی ثقافت کے عالمی اثرو رسوخ کی بدولت عالمی صارفی منڈی کو مزید قوت محرکہ ملےگی۔

یہ سروے سی جی ٹی این کے انگریزی، ہسپانوی، فرانسیسی، عربی اور روسی پلیٹ فارمز پر کرایا گیا اور 24 گھنٹوں کے اند 5,154 بیرون ملک مقیم نیٹیزنز نے سروے میں حصہ لیا اوراپنی رائے کا اظہار کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں