اٹارنی جنرل 244

چیئرمین نیب کوہٹانے کے صدارتی اختیار کا مخالف ہوں،اٹارنی جنرل

اسلام آ باد (رپورٹنگ آن لائن) اٹارنی جنرل آف پاکستان خالد جاوید خان نے چیئرمین نیب کو ہٹانے کے صدارتی اختیار کی مخالفت کردی ہے۔ ہفتہ کو نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے میں خالد جاوید خان نے بتایا کہ نیب نے بہت سے ایسے کیسز بنائے جو بنتے ہی نہیں تھے اور3 سال ریفرنس دائر نہ ہونے سے ملزمان وکٹری کا نشان بناتے ہوئے باہر آتے ہیں۔ اٹارنی جنرل آف پاکستان نے کہا کہ نیب قانون سے متعلق کچھ چیزوں میں جلدی کی ضرورت نہیں تھی اور نیب نے کچھ مقدمات میں زیادتی کی جس کا ازالہ کرنا ہوگا۔

نیب کی اصلاحات قومی مسئلہ ہے اور اپوزیشن کو اس بارے میں ساتھ دینا چاہئے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ چیئرمین نیب کو ہٹانے کا اختیار صدر کو دینے کے خلاف ہوں اور چیئرمین نیب کی برطرفی کے نئے طریقے سے قانونی مسائل پیدا ہوں گے۔ خالد جاوید نے مزید کہا کہ نیب تحقیقات، پراسیکیوشن اور ٹرائل تینوں میں خامیاں موجود ہیں،نیب کے کچھ کیسز کو بہت پہلے منطقی انجام تک پہنچ جانا چاہیے تھا لیکن کرپشن کا الزام لگا کر سال بعد کہہ دینا کہ کیس نہیں بنتا تواس سے عزت کا ستیاناس ہوجاتا ہے۔ اٹارنی جنرل نے یہ بھی کہا کہ نیب مقدمات میں گرفتاری نہیں ہونی چاہیے۔ ریفرنس تیار ہونے پر گرفتاری کا اختیار احتساب عدالت کو ہونا چاہیے تاہم وزیراعظم نے گرفتاری ختم کرنے کی اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا۔ انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کوآزادی اظہار رائے کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں