حلیم عادل شیخ 50

چار سال میں معیشت تباہ، مہنگائی میں ہوشربا اضافہ کیا گیا جاچکا ہے، حلیم عادل شیخ

کراچی (رپورٹنگ آن لائن)پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ آج سے چار سال قبل ایک سازش کے تحت عمران خان کی منتخب حکومت کو ختم کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں ملک کی ترقی کرتی ہوئی معیشت شدید نقصان کا شکار ہوئی اور عوام مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی بحران میں پھنس گئے۔

حلیم عادل شیخ نے کہا کہ عمران خان کے دورِ حکومت میں پاکستان عالمی سطح پر اپنی مثال قائم کر رہا تھا۔ اس دوران اقوامِ متحدہ سے عالمی اسلاموفوبیا ڈے منظور کرایا گیا، بھارت کو مثر جواب دیا گیا۔ پورے دورِ اقتدار میں ڈرون حملوں کا مکمل خاتمہ کیا گیا اور تین بڑے ڈیموں کی تعمیر شروع کی گئی۔ ملک کی برآمدات محض تین سال میں 21 بلین ڈالر سے بڑھا کر 38 بلین ڈالر تک پہنچیں جبکہ ریکوڈک جرمانے کو ختم کر کے اسے 9 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری میں تبدیل کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان حکومت نے پی آئی اے کو خسارے سے نکال کر منافع بخش بنایا، لیکن موجودہ حکومت نے پی آئی اے کو مفت کوڑیوں کے دام فروخت کردیا۔ انہوں نے کہا عمران خان کے دور میں تعمیراتی شعبے کے لیے شاندار پیکیج دیا جس سے لاکھوں نئی نوکریاں پیدا ہوئیں اور تباہ حال ٹیکسٹائل سیکٹر کو بحال کر کے 20 ارب ڈالر کی ایکسپورٹ ممکن ہوئی۔

عالمی سطح پر پذیرائی پانے والے بلین ٹری سونامی منصوبے کے تحت 2 بلین درخت لگائے گئے۔ ملک میں کسانوں کے لیے ریکارڈ فصلیں حاصل ہوئیں اور فصل کے مکمل ریٹ کی ادائیگی یقینی بنائی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ صحت کے شعبے میں ہیلتھ کارڈ پروگرام کے ذریعے ہر خاندان کو 10 لاکھ روپے تک کا مفت علاج فراہم کیا گیا اور ملک بھر میں 150 پناہ گاہیں اور شیلٹر ہومز قائم کیے گئے جہاں مفت کھانا بھی فراہم کیا گیا۔ تعلیم کے شعبے میں یکساں نصاب متعارف کروایا گیا اور مدرسے کے طلبہ کو بھی قومی دھارے میں شامل کیا گیا۔ وزیراعظم تک براہِ راست شہری رسائی کے لیے سٹیزن پورٹل کے ذریعے 45 لاکھ مسائل حل کیے گئے۔

حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ عمران خان کے دور میں روشن ڈیجیٹل اکانٹ کے ذریعے اوورسیز پاکستانیوں سے 3 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری لائی گئی، غیر ملکی زرمبادلہ 19 بلین ڈالر سے بڑھا کر 31 بلین ڈالر تک پہنچا اور عالمی طاقتوں کو اڈے دینے سے انکار کر کے ملکی خودمختاری برقرار رکھی گئی۔ کرونا وبا کے دوران اسمارٹ لاک ڈان اور دیگر اقدامات پر اقوامِ متحدہ اور WHO نے پاکستان کے ماڈل کو سراہا۔ روس کا تاریخی دورہ کیا گیا اور سستے پیٹرول و گندم کے معاہدے کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ سیاحت کے فروغ کے لیے نئے سیاحتی پوائنٹس دریافت کیے گئے، اسکردو کو انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا درجہ دیا گیا اور شمالی علاقوں میں بہترین سڑکیں بنائیں گئیں۔ آئی ٹی اور فری لانسنگ کے شعبے میں لاکھوں نوجوانوں اور خواتین کو سکلز دی گئیں، نئی کمپنیوں کی ریکارڈ رجسٹریشن ہوئی اور القادر یونیورسٹی قائم کی گئی۔ خواتین کے تحفظ کے لیے آن لائن FIR اور سخت قوانین بنائے گئے۔

حالیہ مہنگائی اور اقتصادی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قومی قرضہ 44 ہزار ارب سے بڑھ کر 80 ہزار ارب ہو گیا، پیٹرول 150 سے 378 روپے، ڈیزل 145 سے 520 روپے، آٹا 60 سے 150 روپے اور چینی 75 سے 150 روپے تک جا پہنچی ہے۔ مہنگائی کی وجہ سے عوام غربت کی لکیر سے نیچے جا چکی ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو فوری رہا کیا جائے، عوام کا چوری شدہ مینڈیٹ واپس کیا جائے اور ملک میں سیاسی استحکام پیدا کیا جائے کیونکہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں