طلال چوہدری 60

پی ٹی آئی کی پالیسیوں اور نالائقی سے کے پی جل رہا ہے،طلال چوہدری

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی پالیسیوں اور صوبائی حکومت کی نالائقی کی وجہ سے خیبرپختونخوا جل رہا ہے،

دہشت گردوں سے کوئی ہمدردی نہیں ہو سکتی اور ان کے خلاف کارروائی ناگزیر ہے،خیبرپختونخوا میں سی ٹی ڈی کیوں نہیں بنائی گئی، صوبائی حکومت کی کارکردگی صفر ہے، یہ صرف سیاسی کارڈ کھیلتی رہی،کسی کی سیاست کو بچانے کے لئے دہشت گردوں کے خلاف ایکشن اور انفارمیشن بیسڈ آپریشنز نہیں رکیں گے۔منگل کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہاکہ اس وقت پورے ملک میں بھی جو بھی ایکشن چل رہا ہے یہ نیشنل ایکشن پلان جو 15، 2014 میں بنا اور نیشنل ایکشن پلانII جو پی ٹی آئی حکومت میں بنا تھا،

اس پر صوبائی حکومتیں اور سیاسی جماعتیں متفق تھیں اور اب بھی صوبائی حکومتوں کی معاونت اور مشاورت کے ساتھ اس پر عملد رآمد جاری ہے۔ انہوںنے کہاکہ انفارمیشن بیسڈ آپریشنز روزانہ کی بنیاد پر اداروں اور صوبائی حکومتوں کی مشاورت کے ساتھ ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق فاٹا میں جو کچھ ہورہا ہے اس میں صوبائی حکومت آن بورڈ ہے،امدادی پیکج کی رقوم کی تقسیم کا پورا طریقہ کار واضح ہے۔

انہوں نے کہا کہ قومی اتفاق رائے سے بننے والے قومی ایکشن پلان پر ابہام پیدا کرنے کی کوشش سے ان دہشت گردوں کو فائدہ ملتا ہے جو پورے ملک کے لئے وبال جان بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گزشتہ 14 سال سے ایک ہی جماعت کی حکومت ہے، ان کے وزیراعلیٰ کی مشاورت سے قومی ایکشن پلان کے تحت کارروائیاں ہورہی ہیں،جو لوگ ہمارے جوانوں کے سر اتار کر فٹ بال کھیلیں،عورتوں، بچوں کو نہ چھوڑیں، بازار،مدارس،سکول محفوظ نہ ہوں ان سے کوئی ہمدردری نہیں ہوسکتی،ان کے خلاف ایکشن ہو کے ہی رہے گا۔ انہوں نے کہاکہ 18۔ 2017 میں دہشت گردی ختم ہوگئی تھی،ہر صوبے نے اپنے ادارے بنائے، جس صوبے میں سب سے زیادہ دہشت گردی ہے وہاں سی ٹی ڈی نہیں ، فورنزک لیبارٹری، سیف سٹی نہیں ہے، یہ چاہتے ہیں کہ خون کی ہولی کھیلی جاتی رہے۔

طلال چوہدری نے کہا کہ اس ایوان کے اندر قومی سلامتی پر بریفنگ ہوئی تو ایک پارٹی اس میں شریک نہیں ہوئی وہ پی ٹی آئی تھی۔انہوںنے کہاکہ خیبر پختونخوا میں نئے وزیراعلیٰ بنے تو وزیراعظم نے مبارکباد دی،دودن بعد اعلیٰ سطحی اجلاس میں وزیراعلیٰ کو بلایا گیا تو وہ نہیں آئے،ہم سیاسی پوائنٹ سکورننگ کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سیف سٹی بنانے سے کو ن سی چیز روکتی ہے،خیبر پختونخوا میں انسداد دہشت گردی فورس کیوں کے میں نہیں بنائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ جب خیبر پختونخوا میں حالات قابو میں نہیں رہتے تو وہ کیوں اعلی سطحی فورم پر اتفاق کرتے اور پھر بھاگ جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک مہینے میں چار چار فیلڈ افسران اپنے خون سے خیبر پختونخوا حکومت کی نالائقیوں اور نااہلی پر اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ایسے معاملات پر سیاسی پوائنٹ سکورننگ کے بجائے اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں آئیں ، ہم مثبت تجاویز پر بات کرنے کے لئے تیار ہیں، کسی کی سیاست کو بچانے کے لئے کوئی آپریشن نہیں روکے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئی جی خیبر پختونخوا اور چیف سیکرٹری کو بلا کر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ ہم نہیں لڑئیں گے ، نہیں تو ہم بھی اے این پی،جے یو آئی ایف، پیپلز پارٹی،مسلم لیگ ن بن جائیں گے اور پھر کہتے ہیں کہ ہمیں سیاست کرنے دیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں