ایاز صادق 59

پی ٹی آئی سے مذاکرات کیلئے دروازے کھلے، ہمیں جس کی منت کرنی پڑی ہم تیار ہیں، ایاز صادق

اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن )سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا ہے کہ اپوزیشن اور حکومت کو ایک ٹیبل پر لانا میرا کام ہے، سب کی خواہش ہے کہ ڈائیلاگ ہونا چاہیے، اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنے کی خواہش ہے،پی ٹی آئی سے مذکرات کیلئے دروازے کھلے، ہمیں جس کی منت کرنی پڑی ہم تیار ہیں، پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کا چیئرمین اپوزیشن سے لینا تحریری نہیں۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے اسلام آباد میں اٹھارہویں اسپیکر کانفرنس کے موقع پر شرکا کے ہمراہمشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ سردار ایاز صادق نے کہا کہ تمام اسپیکرز، چیئرمین سینیٹ کا شکریہ ادا کرتا ہوں، تمام شرکا نے کانفرنس میں آئین و قانون کی بالادستی پر بات چیت کی ہے، سب کی خواہش ہے کہ ڈائیلاگ ہونا چاہیے،اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنے کی خواہش ہے۔

ایاز صادق نے کہاکہ اسپیکرز کانفرنس میں پارلیمان کی بالادستی کا اعادہ کیا گیا، طے پایا ہے کہ تمام اسمبلیوں میں قواعد وضوابط یکساں ہوں، اسپیکر ایوان کے تقدس کا محافظ ہوتا ہے، تمام اراکان کو ساتھ لے کر چلنا اسپیکر کی ذمہ داری ہے۔ ایاز صادق نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کیساتھ مذاکرات کیلئے ہمارے دروازے کھلے ہیں، ہمیں مذکرات کیلئے جس کی منت کرنی پڑی ہم منت کرنے کو تیار ہیں۔

ایاز صادق نے کہا کہ ہمارے چیمبر اور گھر سب کیلئے کھلے ہیں، اگر انکی مرضی ہوگی تو ہم منع نہیں کرینگے، کمیٹی بنے گی تو راستے خود نکلتے چلے جائیں گے۔کوئی آئے گا تو نہ نہیں کریں گے مگر لوگوں کو پکڑ کر نہیں کہہ سکتے کہ آئیں مذاکرات کراتے ہیں۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ کانفرنس میں ہم سب کی سوچ ایک ہی تھی، کانفرنس کی متفقہ رائے ہے کہ ایک مذکرات ہوں، پارلیمنٹ کی سپرمیسی، انسانی حقوق اور جمہوریت کی بالادستی کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ کانفرنس میں پاکستان میں آئین اور قانون کی بالادستی اولین ترجیح رہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ موسمیاتی تبدیلی ایک نئی وبا ہے، اس پر توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں، سارے صوبے مل کر ایوان میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پر بحث و مباحثہ کریں۔ایاز صادق نے مزید کہا کہ اسپیکر کو غیر جانبدار کردار ادا کرنا چاہیے، ملک کے مفاد کی خاطر سب کو ساتھ بٹھانا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن کو پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کا فیصلہ کرنے کا کہا تھا، آخری وارننگ دی ہے، نہیں کریں گے تو کمیٹی اجلاس ریکوزیشن کروں گا، پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کو فعال کرنا ضروری ہے، پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی نے کھربوں روپے کی ریکوری کی۔اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ ساری اسمبلیوں میں رولز، پروسیجر ایک جیسے ہونے چاہیے، جب ضرورت پڑے گی تو اسپیکرز پروڈکشن آرڈر جاری کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ صوبوں نے مل کر آنے والے دنوں کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی بنانے کا فیصلہ کیا ہے،انسداد دہشت گردی کے لیے مل کر کام کریں گے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی اسمبلیوں نے فیصلہ کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے مسئلہ کو اجاگر کریں گے، کانفرنس میں فلسطین میں نہتے لوگوں کے قتل و غارت پر بھی بات چیت کی ہے، وہاں فوری طور پر سیز فائر ہونا چاہیے۔

ایاز صادق نے کہاکہ مارچ تک امید ہے قومی اسمبلی میں آئی ٹی اسٹرکچر مکمل ہو جائے گا، اگلی اسپیکر کانفرنس آزاد کشمیر میں کریں گے، پارلیمنٹ کو بہتر سے بہتر بنانے پر کام کرنے کا عزم کیا ہے،ہم نیک نیتی سے کرادار ادا کرنا چاہتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں